شمیم آرا: پاکستان کی پہلی کامیاب اداکارہ اور ہدایت کارہ کی زندگی کا سفر

شمیم آرا 1938 میں علی گڑھ میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام پتلی بائی تھا لیکن فلمی دنیا میں انہیں شمیم آرا کا نام دیا گیا۔ ان کی پہلی فلم ’کنواری بیوہ‘ تھی جو باکس آفس پر زیادہ کامیاب نہیں ہوئی، مگر ان کے اداکاری کے انداز نے ناظرین کو متاثر کیا اور وہ مختلف کرداروں میں جلوہ گر ہوتی رہیں۔

1960 میں انہوں نے فلم ’سہیلی‘ میں اپنی اداکاری کے بل بوتے پر نگار ایوارڈ جیت کر اپنی قابلیت کا ثبوت دیا۔ اپنی فلمی زندگی میں انہوں نے 80 سے زائد فلموں میں کام کیا، جن میں پاکستان کی پہلی رنگین فلم ’نائلہ‘ بھی شامل ہے۔

شمیم آرا کی مشہور فلموں میں ’دیوداس‘، ’صائقہ‘، ’لاکھوں میں ایک‘، ’انارکلی‘، ’چنگاری‘، ’فرنگی‘، ’دوراہا‘ اور ’منڈا بگڑا جائے‘ شامل ہیں۔ وحید مراد کے ساتھ ان کی جوڑی کو شائقین نے بہت پسند کیا، خاص طور پر فلم ’قیدی‘ میں فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ انہی پر فلمائی گئی جو بے حد مقبول ہوئی۔

شمیم آرا کی پہلی شادی سردار رند سے ہوئی، ان کے انتقال کے بعد وہ دو مرتبہ مزید شادی کر چکی تھیں، لیکن وہ زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکیں۔ ان کی چوتھی شادی سکرپٹ رائٹر دبیر الحسن سے ہوئی جو آخری تک قائم رہی۔

1989 میں ان کی آخری اداکاری فلم ’تیس مار خان‘ رہی، جس کے بعد انہوں نے ہدایت کاری میں قدم رکھا اور ’جیو اور جینے دو‘، ’پلے بوائے‘، ’مس ہانگ کانگ‘ اور ’مس کولمبو‘ جیسی فلمیں تخلیق کیں۔

شمیم آرا پاکستان کی پہلی کامیاب خاتون ہدایت کارہ کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اداکاری میں چھ نگار ایوارڈز اور ہدایت کاری میں تین نگار ایوارڈز حاصل کیے۔

طویل بیماری کے بعد، شمیم آرا 5 اگست 2016 کو لندن میں 78 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر ان کی یادیں آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔