پنجاب میں جعلسازی کے خاتمے کے لیے فوڈ اتھارٹی متحرک، لاہور میں متعدد کارروائیاں

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبے میں جعلی اور غیر معیاری گوشت کی فروخت کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کی ہدایت پر لاہور میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 42 گوشت کی دکانوں اور سپلائرز کی جانچ پڑتال کی۔ جعلسازی میں ملوث پائے جانے پر دو مقدمات درج کیے گئے اور دو افراد کو بھاری جرمانے کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 65 ہزار کلوگرام گوشت کی جانچ کے دوران 1610 کلوگرام ناقص گوشت اور مردہ مرغیاں ضبط کر کے تلف کر دی گئیں، جبکہ ایک ملزم کو موقع سے گرفتار بھی کر لیا گیا۔ شیر شاہ کے علاقے میں ایک گاڑی (نمبر LES-6569) سے مردہ مرغیاں برآمد ہوئیں، جنہیں موقع پر ہی ضائع کر دیا گیا اور ذمہ دار شخص کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے حراست میں لے لیا گیا۔

معائنے کے دوران کئی دکانوں میں صفائی کے ناقص انتظامات اور ملازمین کے میڈیکل چیک اپ کی عدم موجودگی بھی پائی گئی۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ بیمار یا مردہ مرغیاں فروخت کرنا ایک سنگین جرم ہے، اور اس کے سدباب کے لیے ہم عالمی معیار کے مطابق گوشت کی تیاری اور ترسیل کے نظام پر کام کر رہے ہیں۔ جعلساز گروہوں کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پہلے سے ذبح شدہ گوشت کی خریداری سے گریز کریں اور مرغی کو اپنے سامنے ذبح کروائیں تاکہ صحت مند گوشت یقینی بنایا جا سکے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ایم ایس) ڈاکٹر احمد ناصر نے تحصیل سمبڑیال کے بنیادی مرکز صحت ساہووالا کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے عملے کی حاضری، لیبر روم، ای پی آئی روم، ٹیب اور تھرمل پرنٹرز سمیت صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

ڈاکٹر احمد ناصر نے ہدایت کی کہ مریضوں کو ادویات مفت فراہم کی جائیں، اور عملہ ان سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دیا جائے اور بزرگوں و حاملہ خواتین کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ انہوں نے فارمیسی میں ادویات کی میعاد، جراحی آلات اور دیگر ضروری سازوسامان کی موجودگی کا ریکارڈ بھی چیک کیا، اور صحت کی سہولیات میں تسلسل قائم رکھنے پر زور دیا۔