
آج ہم پاکستان کی ایک اور خوبصورت جگہ پر بات کرنے جا رہے ہیں۔ کنڈ ملیر بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے پر واقع ہے .کوسٹل ہائی وے کے ذریعے کوئی بھی کراچی سے اس خوبصورت مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی سڑک گوادر تک جاتی ہے۔ یہاں آپ حیران رہ جائیں گے اور اس علاقے کی حیرت انگیز خوبصورتی آپ کو زندگی بھر یاد رکھے گی۔

کنڈ ملیر اور ساحلی شاہراہ: بلوچستان کے پوشیدہ خزانوں کی مکمل گائیڈ
تعارف
بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا لیکن سب سے کم دریافت شدہ صوبہ، دنیا کے چند انتہائی حیرت انگیز مناظر کا گھر ہے۔ اس کے بے شمار قدرتی عجائبات میں کنڈ ملیر ایک شاندار ساحل کی حیثیت سے جبکہ ساحلی شاہراہ (کواسٹل ہائی وے) پاکستان کے خوبصورت ترین روڈ ٹرپس میں سے ایک ہے۔ یہ سفر آپ کو سنہری ریگستانوں، پہاڑی سلسلوں، ویران ساحلوں اور منفرد جغرافیائی تشکیلات جیسے پرنسس آف ہوپ، کیچڑ کے آتش فشاں اور قدیم ہنگلاج ماتا مندر تک لے جاتا ہے۔




اگر آپ ایک انوکھے اور دلفریب سفر کی تلاش میں ہیں، تو یہ گائیڈ آپ کو ہنگول نیشنل پارک، ہنگول دریا کے مگرمچھوں، بہترین پکنک سپاٹس اور کراچی سے گوادر تک بلوچستان کے ساحلی حسن سے متعلق ہر چیز کے بارے میں بتائے گی۔




1. کنڈ ملیر – بحیرہ عرب کا ایک جنت نظیر ساحل
کنڈ ملیر بلوچستان کے ساحل پر واقع ایک پوشیدہ جواہر ہے جو اپنے سنہری ریت، صاف پانی اور پر سکون ماحول کے لیے مشہور ہے۔ یہ خاندانوں کے لیے بہترین پکنک سپاٹ ہے جہاں سیاح قدرتی خوبصورتی کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔
کنڈ ملیر کیوں جائیں؟
پرسکون ساحل: عام ساحلوں کے برعکس، یہاں ہجوم نہیں ہوتا۔
حیرت انگیز نظارے: سنہری ریت اور نیلے پانی کا امتزاج دیدنی ہے۔
کیمپنگ: رات کو تاروں تلے کیمپ لگانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔
2. ساحلی شاہراہ – ایک انمٹ سفر
مکران ساحلی شاہراہ (این-10) کراچی سے گوادر تک پھیلی ہوئی ہے اور یہ پاکستان کے سب سے خوبصورت روڈ ٹرپس میں سے ایک ہے۔ اس راستے میں آپ کو ملے گا:




بحیرہ عرب کے نظارے
ریگستان اور سمندر کا سنگم
چھوٹے ماہی گیروں کے گاؤں
ساحلی شاہراہ پر ضروری اسٹاپس
اورمارہ بیچ: نیلگوں پانی کا ایک پر سکون مقام۔
بوزی پاس: پہاڑی راستہ جو دلچسپ اور خطرناک دونوں ہے۔
جزیرہ استولا (دور سے نظر آتا ہے): پاکستان کا سب سے بڑا غیر آباد جزیرہ۔


3. پراسرار پرنسس آف ہوپ
ساحلی شاہراہ پر واقع پرنسس آف ہوپ ایک قدرتی چٹان ہے جو ایک شہزادی کی مانند نظر آتی ہے۔ مقامی روایات کے مطابق، اسے ہالی ووڈ اداکارہ اینجلینا جولی نے اپنے پاکستان دورے کے دوران یہ نام دیا تھا۔




پرنسس آف ہوپ کیوں مشہور ہے؟
قدرتی عجوبہ: ہوا اور بارش نے اسے صدیوں میں تشکیل دیا۔
فوٹوگرافی: انسٹاگرم کے لیے بہترین جگہ۔
ثقافتی اہمیت: مقامی کہانیوں سے جڑی ہوئی۔
4. ہنگول نیشنل پارک – جنگلی حیات کی جنت
ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا قومی پارک ہے جو 6,100 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں پائے جاتے ہیں:
نایاب جانور: بلوچستان ریچھ، مارخور اور کچھوے۔
ہنگول دریا کے مگرمچھ: یہاں مارش کروکوڈائلز دیکھے جا سکتے ہیں۔
حیرت انگیز مناظر: پہاڑ، صحرا اور ساحلی علاقے۔
ہنگول نیشنل پارک جانے کا بہترین وقت
سردیوں میں (نومبر سے فروری): موسم خوشگوار ہوتا ہے۔
بہار میں (مارچ-اپریل): صحرا میں پھول کھلتے ہیں۔
5. قدیم ہندو مندر – ہنگلاج ماتا مندر
ہنگلاج ماتا مندر پاکستان کے سب سے مقدس ہندو زیارت گاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہنگول نیشنل پارک کے اندر واقع ہے اور دیوی ہنگلاج (کالی ماتا) کو وقف ہے۔ ہر سال ہزاروں زائرین ہنگلاج یاترا پر یہاں آتے ہیں۔
اس مندر کی خاص بات کیا ہے؟
تاریخی اہمیت: 2000 سال سے زیادہ پرانا مانا جاتا ہے۔
غار میں واقع: پہاڑ کے اندر ایک قدرتی غار میں بنایا گیا۔
مذہبی ہم آہنگی: ہندوؤں کے ساتھ ساتھ سیاح بھی دیکھنے آتے ہیں۔
6. بلوچستان کے کیچڑ کے آتش فشاں
بلوچستان میں کیچڑ کے آتش فشاں پائے جاتے ہیں، خاص طور پر ہنگول دریا کے قریب۔ یہ چھوٹے چھوٹے ٹیلے میتھین گیس اور ٹھنڈا کیچڑ خارج کرتے ہیں، جو ایک غیر زمینی منظر پیش کرتے ہیں۔
کیچڑ کے آتش فشاں کے بارے میں اہم باتیں
چندرا گپ اور کھنڈواری سب سے مشہور ہیں۔
روایتی عقائد: مقامی لوگ انہیں روحانی اہمیت دیتے ہیں۔
جیولوجیکل عجوبہ: جنوبی ایشیا میں یہ ایک نایاب نظارہ ہے۔
7. ہنگول دریا اور اس کے دیوہیکل مگرمچھ
ہنگول دریا بلوچستان کا سب سے طویل دریا ہے جو ہنگول نیشنل پارک سے گزرتا ہے۔ اس کے سب سے مشہور رہائشی مارش کروکوڈائلز ہیں، جن میں سے کچھ 15 فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں!
مگرمچھ دیکھنے کے لیے تجاویز
بہترین وقت: صبح سویرے یا غروب آفتاب۔
حفاظت: دور سے دیکھیں۔
کشتی کی سیر: کچھ مقامی لوگ گائیڈڈ ٹورز دیتے ہیں۔
8. سفر کا بہترین وقت اور ضروری تجاویز
موزوں موسم: اکتوبر سے مارچ (گرمی سے بچیں)۔
سڑکیں: ساحلی شاہراہ اچھی ہے، لیکن اضافی پٹرول اور پانی ساتھ رکھیں۔
اجازت نامے: ہنگول نیشنل پارک کے کچھ علاقوں کے لیے خصوصی اجازت درکار ہو سکتی ہے۔
اختتامیہ
کراچی سے گوادر تک ساحلی شاہراہ کا سفر ایک انمٹ تجربہ ہے، جس میں قدرتی عجائبات، جنگلی حیات، تاریخ اور مہم جوئی سب کچھ شامل ہے۔ چاہے آپ کنڈ ملیر کے ساحل کی سیر کریں، پرنسس آف ہوپ کو دیکھیں، یا ہنگول دریا کے مگرمچھوں کو تلاش کریں، بلوچستان آپ کو ایک انوکھا سفر پیش کرتا ہے۔
آج ہی اپنا سفر پلان کریں اور پاکستان کے ساحلی خزانوں کو دریافت کریں!
فوکس کیفریز:
“کنڈ ملیر اور ساحلی شاہراہ کا مکمل ٹریول گائیڈ”























