ترکی کی دفاعی کمپنی راکٹسان نے ایک جدید آٹونومس روبوٹک ڈاگ ‘کوز’ (Koz) پیش کیا ہے جو منی میزائلوں سے لیس ہے اور اسے نہ صرف ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے بلکہ خودکار طور پر بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ روبوٹک کتا دنیا کا پہلا ایسا ماڈل ہے جو گائیڈڈ میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے ترکی کی معروف دفاعی فرم Roketsan نے تیار کیا ہے۔ اسے حال ہی میں استنبول میں ہونے والی ایک بین الاقوامی دفاعی نمائش میں متعارف کرایا گیا۔
‘کوز’ خاص طور پر مشکل اور ناہموار علاقوں میں موثر کارکردگی دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں راکٹسان کے تیار کردہ چار لیزر گائیڈڈ میٹے میزائل نصب ہیں اور اس پر ایک الیکٹرو آپٹیکل نظام بھی موجود ہے جو اسے جاسوسی اور حملے دونوں مشنز کے لیے انتہائی مؤثر بناتا ہے۔
مشکل راستوں پر آسانی سے چلنے، خودکار اور ریموٹ کنٹرول کے موڈز کے درمیان تبدیلی کی سہولت، اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے کی وجہ سے ‘کوز’ کو جنگی ٹیکنالوجی میں ایک نمایاں پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ دفاعی ایجاد جنگ کے جدید معیار کو بدلنے والی ہے کیونکہ یہ بغیر پائلٹ کے چلتی ہے اور ہدف پر انتہائی درست حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے انسانی جانوں کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔
استنبول کی توپ کاپی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل Cihat Yayci نے ‘کوز’ کو جدید جنگی آپریشنز میں ‘گیم چینجر’ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی محض تکنیکی انقلابی ایجاد نہیں، بلکہ اس کا اصل اثر انسانی زندگیوں پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ روبوٹ کا مقصد خطرناک کاموں میں انسانوں کی جگہ لینا ہے، اور ‘کوز’ کی بدولت ہم بغیر کسی فوجی کو خطرے میں ڈالے، غاروں، عمارتوں اور اسنائپر زدہ علاقوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔























