کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ممتاز قانون دان خواجہ شمس الاسلام فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گئے، جب کہ ان کا بیٹا اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق خواجہ شمس الاسلام جنازے میں شرکت کے لیے آئے تھے اور جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے، نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
واضح رہے کہ اس افسوسناک واقعے سے چند گھنٹے قبل بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے، جن میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ کم از کم نو افراد زخمی ہوئے۔ کورنگی میں شادی کی تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق ہو گیا جس کی شناخت کاشف کے نام سے ہوئی۔
سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا، جب کہ خاتون اور بچہ سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ اسی طرح، ملیر 15 کے علاقے میں ایک تیز رفتار ٹرالر موٹر سائیکل پر چڑھ گیا، جس سے موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئی، تاہم سوار محفوظ رہے۔ مشتعل عوام نے ٹرالر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، مگر پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا۔
دوسری جانب اورنگی ٹاؤن، فرنٹیئر کالونی اور ملیر میں بھی فائرنگ کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔























