ایشیا کپ میں بھارت نے میچ نہ کھیلا تو پوائنٹس پاکستان کو ملیں گے، ماہرین کی وضاحت

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا تو ٹورنامنٹ کے قوانین کے تحت پوائنٹس خود بخود پاکستان کو دے دیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق، بھارت نے اپنی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد ایشیا کپ میں شرکت اور پاکستان سے میچ کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بعد ایشیائی کرکٹ کونسل نے باقاعدہ شیڈول جاری کیا۔ ایشیا کپ 9 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا، جس میں 8 ٹیمیں شریک ہوں گی۔ گروپ اے میں شامل پاکستان اور بھارت کا کم از کم دو بار آمنا سامنا ممکن ہے، جبکہ تیسری بار فائنل میں ٹکراؤ کا امکان بھی موجود ہے۔

تاہم بھارت کے اندر بعض حلقے اب بھی پاکستان کے خلاف میچ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کچھ انتہاپسند عناصر سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں کہ اس میچ کو کسی نہ کسی طرح منسوخ کرایا جائے، جیسے حالیہ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان-بھارت میچ منسوخ کرایا گیا تھا۔

ادھر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ بھارت ٹورنامنٹ کا میزبان ہے اور نہ ہی ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان سے کھیلنے سے انکار کرسکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزارت کھیل نے کہا ہے کہ چونکہ پارلیمنٹ سے نیشنل اسپورٹس گورننس بل ابھی منظور نہیں ہوا، اس لیے بی سی سی آئی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔

ایک بھارتی میڈیا رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کے پاس میچ سے دستبردار ہونے کا اختیار تو موجود ہے، مگر اس صورت میں ٹیم کو قیمتی پوائنٹس کا نقصان اٹھانا پڑے گا اور یہ میچ واک اوور تصور کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ کوئی باہمی سیریز نہیں بلکہ ایک کثیر الملکی ایونٹ ہے، جہاں کسی بھی ٹیم کا میچ نہ کھیلنے کا مطلب دوسرے ملک کو براہِ راست فائدہ دینا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے میچ سے انکار کیا تو پوائنٹس پاکستان کے کھاتے میں چلے جائیں گے اور یہ فیصلہ ایونٹ میں بھارت کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔