امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا اور بھارت کی اسپیس ریسرچ تنظیم (اسرو) نے بدھ کے روز مل کر ایک انتہائی جدید زمین کا مشاہدہ کرنے والی سیٹلائٹ خلا میں بھیجی ہے۔ یہ سیٹلائٹ، جسے نِسآر (NISAR) – ناسا-اسرو سنتھیٹک اپرچر ریڈار کہا جاتا ہے، زمین کی سطح میں ہونے والی باریک ترین تبدیلیوں کو بھی ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ مشن، جس پر اندازاً 1.3 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے، کا مقصد انسانی سرگرمیوں اور قدرتی آفات جیسے زلزلے، سیلاب، برفانی تودے اور آتش فشاں پھٹنے کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔ سیٹلائٹ کو بھارت کے جنوب مشرقی علاقے میں قائم ستیش دھون اسپیس سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا۔
خلاء میں کامیابی سے داخلے کے بعد، بھارتی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جتیندر سنگھ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
“بھارت کو بہت بہت مبارک ہو!”
یہ سیٹلائٹ اب زمین کے قطبوں کے گرد مدار میں گردش کر رہی ہے اور آئندہ تین سال تک مختلف سائنسی مقاصد کی تکمیل میں مصروف رہے گی۔ 747 کلومیٹر کی بلندی سے یہ سیٹلائٹ ہر 12 دن میں دو بار زمین کی سطح کا معائنہ کرے گی اور صرف 1 سینٹی میٹر (0.4 انچ) کی تبدیلی کو بھی ریکارڈ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔
ناسا کے جیو سائنس شعبے سے وابستہ ماہر مارک سائمنز نے وضاحت کی کہ نِسآر کسی زلزلے کی پیشگی اطلاع تو نہیں دے سکتی، لیکن یہ ضرور بتا سکتی ہے کہ کن علاقوں میں بڑے زلزلوں کا خطرہ زیادہ ہے۔
ناسا کی ارتھ سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر کیرن سینٹ جرمین کے مطابق، نِسآر گلیشیئرز، برفانی پرتوں، اور ان کی حرکت و پگھلاؤ کے عمل پر نظر رکھے گی، خاص طور پر گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا میں۔ اس کے علاوہ، یہ سیٹلائٹ جنگلات میں لگنے والی آگ کا مشاہدہ بھی کر سکے گی۔
نِسآر کو دنیا کا پہلا ایسا سیٹلائٹ قرار دیا جا رہا ہے جو دو مختلف ریڈار فریکوئنسیز استعمال کرتا ہے، جو اسے زمین کی انتہائی باریک تفصیلات کے مشاہدے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ سسٹم دن رات، اور کسی بھی موسمی حالات میں کام کر سکتا ہے۔
ریڈار سسٹم زمین کی طرف سگنلز بھیجتے ہیں اور پھر واپس آنے والے سگنلز کو سیٹلائٹ کا بڑا اینٹینا ریفلیکٹر وصول کرتا ہے۔ سائنسدان پھر ان سگنلز کا موازنہ کر کے سطح زمین میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں گے، بالخصوص جب سیٹلائٹ کسی مخصوص علاقے کے اوپر سے دوبارہ گزرتی ہے۔
اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کے بعد کہا کہ:
“نِسآر کی بے شمار سائنسی ایپلی کیشنز ہیں اور عالمی سطح پر تحقیق سے وابستہ افراد اس کے ڈیٹا کے منتظر ہیں۔”























