پاکستان میں بچوں کے کینسر کے علاج کی عالمی کوششوں میں اہم پیش رفت

پاکستان نے بچوں کے کینسر کے علاج سے متعلق عالمی پلیٹ فارم میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس سے ملک میں اس مہلک مرض کے خلاف مؤثر اقدامات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد 2030 تک بچوں کے علاج میں کامیابی کی شرح کو 60 فیصد تک بڑھانا ہے۔

یہ شراکت عالمی ادارہ صحت (WHO) اور پاکستان کی وزارتِ صحت کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے کے تحت طے پائی ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال ملک میں سرطان کے شکار ہونے والے تقریباً 8,000 بچوں کو مفت اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

پاکستان میں اس وقت کینسر کے علاج کی محدود سہولیات کی وجہ سے صرف 50 فیصد متاثرہ بچے ہی مکمل صحت یاب ہو پاتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہی شرح 80 فیصد تک ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف علاج کی سہولت بڑھے گی بلکہ ہزاروں جانیں بچانے کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔

معاہدے پر دستخط وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر ڈاپنگ لو نے کیے۔ یہ معاہدہ دسمبر 2027 تک نافذ العمل رہے گا، اور مستقبل میں اس میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے۔

وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اس موقع کو پاکستان کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں جیسے WHO، یونیسف اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اشتراک کے ذریعے بچوں کی زندگیاں بچانا دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔

ڈاکٹر ڈاپنگ لو نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بچے کو محض اس لیے اپنی جان سے ہاتھ نہیں دھونا چاہیے کہ اسے کینسر کے علاج تک رسائی حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ WHO، وزارتِ صحت اور تمام شراکت دار مل کر ہر بچے کی جان بچانے کے لیے بلا امتیاز کام کریں گے۔

پاکستان، مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں اردن کے بعد دوسرا ملک ہے جو اس عالمی پلیٹ فارم کا حصہ بنا ہے۔ یہ پروگرام 2021 میں سینٹ جڈ چلڈرن ریسرچ ہسپتال اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا تاکہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو بلا تعطل سرطان کی ادویات فراہم کی جا سکیں۔

یونیسف، اس پروگرام کے تحت پاکستان میں ان ادویات کی دستیابی اور ترسیل کی نگرانی کرے گا۔ مزید برآں، WHO وزارتِ صحت اور صوبائی اداروں کو تکنیکی معاونت، تربیت اور درکار وسائل کی فراہمی میں بھی مدد دے گا۔

عالمی اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 400,000 بچے کینسر کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے 90 فیصد کا تعلق کم یا متوسط آمدنی والے ممالک سے ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے بچے محض علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

WHO نے اس صورتحال کے پیشِ نظر ایک مربوط اور ہنگامی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے تاکہ مزید قیمتی زندگیاں ضائع ہونے سے بچائی جا سکیں۔