روس میں شدید زلزلہ، دنیا بھر میں سونامی وارننگ جاری

روس کے مشرقی ساحلی علاقے کامچٹکا کے قریب بحرالکاہل میں 8.8 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ یہ زلزلہ کامچٹکا سے 126 کلومیٹر دور اور 18 کلومیٹر کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق، اس زلزلے سے تین سے چار میٹر بلند لہریں پیدا ہوئیں، جنہوں نے ساحلی علاقوں کو متاثر کیا۔

کامچٹکا کے گورنر ولادیمیر سولوڈوف نے اسے کئی دہائیوں کے بعد آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا۔ روسی اکیڈمی آف سائنسز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک ماہ تک 7.5 شدت کے آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔

زلزلے کے بعد روس نے شمالی جزیروں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی ہے، جبکہ جاپان کے شمالی ساحل پر بھی 40 سینٹی میٹر اونچی لہروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جاپانی حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر 19 لاکھ افراد کو ساحلی علاقوں سے انخلا کی ہدایت دی ہے۔

امریکہ کے ریاستی اداروں نے ہوائی، کیلیفورنیا اور دیگر مغربی ساحلی ریاستوں میں لوگوں کو ساحل سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی سونامی وارننگ سینٹر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہوائی اور ایکواڈور کے ساحلی علاقوں میں 10 فٹ تک اونچی سونامی لہریں آ سکتی ہیں۔

عالمی سطح پر چین، فلپائن، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، پیرو اور میکسیکو سمیت کئی ممالک نے بھی سونامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ شمالی کیلیفورنیا کے بعض علاقوں میں چھ فٹ تک بلند لہروں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ پیرو اور ایکواڈور کے قریبی جزائر گلاپاگوس سے بھی لوگوں کو احتیاطی طور پر نکالا جا رہا ہے۔

ہوائی یونیورسٹی کی ماہر جیوفزکس ڈاکٹر ہیلن جینیسوزکی نے کہا ہے کہ یہ زلزلہ تاریخ کے 10 شدید ترین زلزلوں میں سے ایک ہے۔ یو ایس جیولوجیکل سروے کے مطابق، یہ 8.8 شدت کا زلزلہ دنیا کا چھٹا شدید ترین زلزلہ قرار دیا گیا ہے۔

جاپان کی حکومت نے فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ کے تمام عملے کو حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ 2011 میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے باعث فوکوشیما پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس سے تابکاری بھی پھیلی تھی۔ جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری نے اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔