گدھے کے گوشت کا انکشاف ۔۔ حقیقت کچھ اور

امیر محمد خان
===========

صاحبو، مہنگائی کے اضافے کو رونا ہے او ر سچ بھی ہے حکومت کے روزآنہ کے بیان کے مطابق نہ جانے کتنے سالوں کے بعد پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہوگئی ہے، یہ بیان دیکر وزراء نہ جانے اپنے لئے کیوں گناہ کما رہے ہیں چونکہ عام آدمی کی تو مہنگائی سے چیخیں نکل رہی ہیں، نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک سے باہر جانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ایک اوؤرسیز میں رہنے والے کے حوالے سے یہاں ان نوجوانوں کویہ ہی کہہ سکتا ہوں کے کہ ملک کے معیشت کی درستگی کی دعا کریں، کوشش کریں، ملک سے باہر جاکر اپنے وطن کی مٹی کے خوشبو سے محروم ہوجائینگے، اس بات کو اپنا نعرہ بنائیں ”گھر تو آخر اپنا ہے “ صرف مہنگائی ہی عوام کی مایوسی کا سبب نہیں وہ جب اشرافیہ کو دیکھتے ہیں، اشرافیہ کو قانون سے بالا تر دیکھتے ہیں تو مایوسی میں مزید اضافہ ہوتا ہے، حکومتی رٹ نظر نہیں آتی اسکا اظہار وزراء بھی کرتے ہیں کہ ہم اصلاح کی کوشش کرتے ہین دیانتداری سے مگر احکامات پر عمل نہیں ہوتا ، یا عام آدمی اس سے مستیفیض نہیں ہوتا۔ اگر وزیر اعظم یا وزراء کے عوام دوست اعلانات پر عمل نہیں ہوگا تو پھر کونسا ملک سنبھل سکتا ہے یا ترقی کرسکتا ہے قارئین چھوڑیں ان دکھ بھری باتوں کو، اسی ملک میں اپنی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے اب عوام کو گدھے کا گوشت کھلا رہے ہیں، گدھے، کتے، گھوڑے، خچر کے گوشت کے استعمال کی خبریں کوئی نئی نہیں کراچی، لاہور، اسلام آباد کے شہری اس سے مستفیض ہوتے رہے ہیں ۔ سعودی عرب، پاکستان یہاں تک کہ یہودیوں کیلئے بھی گدھے کا گوشت حرام ہے، مگر ہمارے ہاں پیسہ کمانے کے خواہش مند اپنے آپ کو اسلام کے دائیرہ کار سے باہر سمجھتے ہیں، ڈھکے چھپے گدھے کا گوشت پاکستان میں استعمال ہوتا ہے انہیں محکمہ فوڈ اتھارٹی کاآشیر باد ہوتا ہے جو اپنی ذاتی معیشت کی بہتری کیلئے حرام گوشت کے سلسلے میں اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں، گدھا، گھوڑے، کتے، خچر کے گوشت کے علاوہ بڑے پیمانے پر مردہ مرغیوں کا استعمال اکثر ہوٹلیں کرتی ہیں بس محکمہ فوڈ سے ”الیک سلیک“ ہونا ضروری ہے، حال میں اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر گدھے کے گوشت کی خبرپر عوام نے مذاق بنانا لیا، اور وزراء سیاست دانوں پر گدھے کے گوشت کے حوالے سے سیاست دانوں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے لگے، ایک خاتون نوشین وسیم نے کہا کہ گدھے کا گوش اہل اسلام آباد اسلئے کھا رہے ہیں تاکہ گدھے کی طرح محنت کرسکیں، مگر وہ بھی نہیں کررہے شائد صحت مند گدھے نہ ہوں۔ خبروں میں ان مشہور ہوٹلوں کا بھی ذکر آیا جہاں ایک طویل عرصے سے گدھے کا گوشت فراہم کیا جارہا تھا ، میڈیا کے مطابق محکمہ فوڈسے کئے گئے وعدوں میں تاخیر ہوگئی جس وجہ سے یہ مسئلہ سامنے آگیا۔ کچھ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود حرام گوشت شوق سے کھاتے ہیں مجھے یاد ہے کہ میں ایک مرتبہ چین میں تھا ،ہم سیاحتی ادارہ ہمیں دیوار چین دکھانے لے گیا،میرے ہمراہ ایک امریکہ پائیلٹ بمعہ اپنی بیگم کے تھا، ایک مصری نوجوان بھی تھا ،ایک ریسٹورانٹ میں ہم نے کھانا کھایا، میرے سامنے بیٹھے ایک مسلمان مصری نے ایک حرام جانور جسکا نام لینا بھی مسلمانوں میں گناہ ہے کا گوشت منگایا، میں نے امریکہ جوڑے سے پوچھے کہ تم لوگ بھی تو یہ کھاتے ہو، اس نے کہاکہ ہم کھاتے ہیں مگر اس احترام میں نہیں کھارہے کہ تم ہمارے ساتھ ہو اور تم اسے حرام سمجھتے ہیں مجھے شرمندگی ہوئی چونکہ میرے سامنے بیٹھا مسلمان اسی حرام گوشت کی ڈش کو ”پھوڑ“رہا تھا۔ اسکے باوجود کہ گدھے، گھوڑے، خچر کے گوشت کی کیمیاوی کو دیکھا جائے تو گدھے کا گوشت صحت کے لیے اچھا ہو سکتا ہے اگر اسے صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے، تیار کیا جائے اور پکایا جائے۔ کچھ ثقافتوں میں، اسے ایک لذت سمجھا جاتا ہے اور اس کے غذائی فوائد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خرابی ہے، سائنس بیان کرتی ہے کہ گدھے کے گوشت میں پروٹین کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو کہ پٹھوں کی مرمت اور مدافعتی کام کے لیے ضروری ہے۔گائے یا بھیڑ کے مقابلے میں اس میں چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ آئیرن اور وٹامینز سے بھر پور ہوتا ہے جو توانائی اور دماغی صحت کیلئے بہتر ہے، جوڑوں کے درد کے اسکی کھال کے مطابق بھی کہا جاتا ہے کہ مفید ہوتی ہے، مگر ہمارے عظیم مذہب میں جن معاملات پر منع کیا ہے تو اسکے بہت سے نقصانات ہیں آج دنیا بھر میں لوگ جو خنزیر کا گوشت کھارہے تھے سائینسی تحقیق نے اسکے شدید نقصانات بیان کئے ہیں جس وجہ وہ بھی اسے کھانا چھوڑ چکے ہیں۔ پاکستانی فوڈ سیفٹی قوانین گدھے کا گوشت پیش کرنے پر سختی سے پابندی لگاتے ہیں، جسے اسلام میں حرام سمجھا جاتا ہے، محکمہ فوڈ پاکستان کہتا ہے کہ ریستورانوں استعمال ہونے والے کھانے خاص طور پرمناسب معائنہ سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے تو پھر یہ پاکستان کے مختلف شہروں میں کتے، گدھے کہ کہانیاں کیوں جنم لیتی ہیں جس پر مسلمان ممالک ہم پر ہنستے ہیں یہ معاملہ ہے حکومتی رٹ اور متعلقہ محکموں کی نااہلی جو یقینی رشوت ہوتی ہے۔حکومت پاکستان گدھے کے گوشت کو برآمد کررہا ہے ہماری گدھوں کی برآمد چین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے گدھے کا گوشت اورضمنی مصنوعات برآمد کررہا ہے گزشتہ سال جولائی 2024 میں، پاکستان نے چین کو گدھے کی کھال اور گوشت برآمد کرنے کی اجازت دینے والے برآمدی پروٹوکول کو حتمی شکل دی فروری 2025 میں، پاکستان کے پہلے قانونی گدھے کے ذبح خانے نے گوادر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں تجارتی کارروائیاں شروع کیں، گدھے کے گوشت، ہڈیوں اور کھالوں کو برآمد کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔اسلام آباد میں بھی دراصل ایک ذبح خانہ تھا جہاں گدھے کا گوشت اور زندہ گدھوں کو دھر لیا گیا گدھے کی کھالیں (جیلیٹن خاص طور پر ای جیاؤ بنانے میں استعمال ہوتی ہیں) اور گوادر میں پروسیس ہونے والا گوشت چین بھیج دیا جاتا ہے۔پاکستان کا چین کے ساتھ سالانہ تقریباً 200,000 سے زیادہ گدھوں کی لاشوں کے ساتھ کھالوں کو برآمد کرنے کے معاہدے موجود ہیں، جس وجہ سے گدھوں کی قیمتوں میں دیگر اشیاء کی طرح ڈرامائی اضافہ ہوگیا ہے، چھاپوں کا تعلق غیر قانونی ذبح خانوں سے ہے، اسلام آباد میں ہوٹلوں میں سپلائی اللہ و عالم مگر یہ محکمہ فوڈ اور میڈیا کی نااہلی ہے جس نے یہ بتایا کہ یہ ہوٹلوں میں سپلائی ہورہا تھا دراصل گوادر کے قانونی ذبح خانون تک گدھوں کو ذبح کرنے کی تلقین ہے چین بڑی مقدار میں گدھے کا گوشت اور کھالیں درآمد کر رہا ہے چین میں کھانوں میں حلال و حرام کا تصور نہیں ہے چین درآمد شدہ گدھوں، خچروں کو غذ ا کے علاوہ اسکی کھال اور گوشت سے خون کی گردش کو بہتر بنانے، بے خوابی یا خشکی کا علاج و جلد کو بہتر کرنے والی ادویات بناتا ہے جسے خاص طور خواتیں اپنے چہروں پر لگاتی ہیں چین ہر سال 4سے 6ملین کھالیں درآمد کرتا ہے چین کی ہوٹلوں میں ہر چیز کی ڈش ہوتی ہے میرے سوال پر چینی دوست کا کہنا تھا کہ
: ”جنت میں ڈریگن کا گوشت ہے؛ زمین پر گدھے کا گوشت ہے۔”چین میں گدھے کا گوشت بہترین اسٹریٹ فوڈ کہلاتا ہے
پاکستان نے گوادر میں نئے مذبح خانے بنائے ہیں، اور پروٹوکول کے تحت چین کو سالانہ تقریباً 200,000 سے 216,000 گدھوں کی کھالیں اور گوشت برآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔