
عزیز سنگھور
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کاروکاری کے ایک اندوہناک واقعے میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 29 جولائی 2025 کو صبح کے وقت لکپاس کے قریب نوشکی کراس کے مقام، پرانے کسٹم آفس کے قریب ایک ہوٹل میں پیش آیا۔
لیویز حکام کے مطابق مقتولین کی شناخت محمد شعیب اور بے نظیر کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمریں 27 سے 28 سال کے درمیان تھیں۔ مقتول محمد شعیب کا تعلق پنجگور کے علاقے چتکان سے تھا جبکہ مقتولہ بے نظیر کا تعلق کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی سے تھا۔
ایس ایچ او مستونگ لیویز تھانہ ولی خان کے مطابق محمد شعیب نے تقریباً سات برس قبل بے نظیر سے بھاگ کر کورٹ میرج کی تھی۔ کچھ عرصہ قبل مقتول کا اپنے سسرالی رشتہ داروں سے راضی نامہ بھی ہو چکا تھا۔ مقتولہ کے بھائیوں نے دونوں میاں بیوی کو “دعوت” کے بہانے کوئٹہ بلایا۔
ذرائع کے مطابق محمد شعیب، اپنی اہلیہ اور بھائی کے ہمراہ پنجگور سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔ رات کے وقت انہوں نے مستونگ کے علاقے لکپاس کے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ اگلی صبح مقتولہ کے بھائیوں نے فون کے ذریعے ان کی لوکیشن حاصل کی اور موقع پر پہنچ کر اندھا دھند فائرنگ کر کے دونوں میاں بیوی کو قتل کر دیا۔
مقامی لیویز کے مطابق مقتولہ بے نظیر اس وقت حاملہ تھیں، جبکہ ان کے پہلے سے دو بچے، جن کی عمریں چھ اور تین سال ہیں، اب یتیم ہو چکے ہیں۔
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، بلوچستان کی ایک اور سفاک حقیقت ہے، جہاں محبت اب بھی گناہ ہے اور عورت کی خودمختاری سزا کے قابل جرم ہے۔ لیویز کے مطابق شعیب اور بے نظیر ، جنہوں نے سات سال قبل بھاگ کر کورٹ میرج کی تھی کو مقتولہ کے بھائیوں نے “دعوت” کے بہانے بلایا۔ پہلے راضی نامہ، پھر کھانے کی پیشکش، اور آخر میں موت۔ یہ “غیرت” نہیں، منصوبہ بند قتل ہے۔
قتل کی یہ واردات نہ صرف انسانی ہمدردی کے اصولوں کی توہین ہے بلکہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی کاروں کاری کی ذہنیت کی بھی غماز ہے، جہاں عورت کی پسند، اس کی آزادی اور اس کا فیصلہ، خاندان کے نام نہاد وقار پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ جبری شادی کے خلاف قدم اٹھانے والی بیٹیاں، یا مرضی کی شادی کرنے والے جوڑے، بلوچستان میں بارہا قتل کیے جا چکے ہیں۔ ان کا جرم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں اور یہی خواہش انہیں موت کے کنویں میں دھکیل دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ اگر صلح کے بعد بھی خاندان انتقام کی آگ میں جلتا رہے، تو یہ صلح نہیں، چالاکی ہے۔ اور اگر قاتلوں کو علم ہو کہ وہ بچ نکلیں گے، تو قانون محض ایک کاغذی دکھاوا رہ جاتا ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق ملزمان کی تلاش جاری ہے، مگر ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان میں انصاف اکثر نامعلوم فائلوں میں گم ہو جاتا ہے۔ ہر قتل کے بعد ایک نئی ایف آئی آر، ایک نئی خبر، اور پھر ایک نئی خاموشی۔ بے نظیر کا خون بھی شاید اسی خاموشی میں جذب ہو جائے گا، اگر ہم نے اس پر آواز نہ اٹھائی۔
اگر ہم واقعی ایک مہذب اور باشعور معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کی مرضی، اس کی محبت، اور اس کے فیصلے کو قبول کرنا ہوگا۔ ورنہ کل کو ہماری بیٹیاں جینے سے پہلے مرنے کے لیے پیدا ہوں گی۔
بلوچستان میں اگر کوئی لڑکی اپنی مرضی سے شادی کا فیصلہ کرے، تو اس کا انجام کاروں کاری ہے۔ اگر کوئی نوجوان سوال اٹھائے، تو وہ لاپتہ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی ماں انصاف مانگے، تو اسے غدار کہا جاتا ہے۔ یہ سب اتفاق نہیں، بلکہ ایک منصوبہ بند سماجی جبر ہے، جس کے پیچھے حکومتی اشرافیہ کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔
آج پاکستان میں عدلیہ، انتظامیہ، پارلیمنٹ، سردار اور اسٹیبلشمنٹ ایک ایسے بند گھیرا بن چکے ہیں جس کے اندر سوال اٹھانا منع ہے۔ اور اس بند دائرے کے اندر بلوچ سماج کو قبائلی بنیادوں پر بانٹ کر غیر سیاسی رکھا جا رہا ہے تاکہ کوئی سیاسی، معاشی یا آئینی سوال نہ اُٹھا سکے۔
کاروں کاری جیسے جرائم اسی گٹھ جوڑ کی پیداوار ہیں۔ حکومت جہاں چاہے تو ایک ٹوئٹ پر ایکٹ پاس کرا لیتی ہے، مگر عورت کے حقِ انتخاب پر خاموشی اختیار کرتی ہے۔ بے شمار لڑکیاں جیسے بانو بی بی، بے نظیر، یا دیگر صرف اس لیے قتل کر دی گئیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کیا۔ ریاستی عدلیہ، جو ہر معاملے میں “نوٹس” لینے کے ماہر ہیں، یہاں صرف تماشائی ہیں۔
یہ محض پدرشاہی مسئلہ نہیں یہ سیاسی حکمتِ عملی ہے۔ قبائلی سردار، جو حکومت مفادات کے ضامن ہیں، ایسے جرائم پر خاموش رہتے ہیں، بلکہ اکثر ان کے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جِرگہ سسٹم جو عورت کی زندگی کا فیصلہ منٹوں میں کرتا ہے۔ عدالتی نظام کا متبادل بن چکا ہے، اور حکومت اسے چیلنج کرنے کی بجائے تحفظ دیتی ہے۔
قبائلی ڈھانچے کو “ثقافت” کہہ کر زندہ رکھا جا رہا ہے تاکہ عوام کو اجتماعی شعور سے محروم رکھا جا سکے۔ جب ایک عورت کو صرف اس لیے قتل کیا جائے کہ وہ اپنی پسند سے شادی کرتی ہے، تو اصل میں پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ فیصلے کا حق صرف سردار، اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کے پاس ہے فرد کے پاس نہیں ہے۔
کاروں کاری اب محض خاندانی مسئلہ نہیں رہا، یہ سرکاری پالیسی کا خاموش ہتھیار بن چکا ہے۔ ایک ایسا ہتھیار جو بلوچ سماج کو مسلسل خوف، خاموشی اور غلامی میں رکھتا ہے۔ جب عورت کے جسم پر، اور مرد کے شعور پر، بیک وقت بندوق تان دی جائے تو سمجھ لیجیے کہ وہ سماج سیاسی طور پر معذور بنایا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں ترقی کے راستے، تعلیم کے دروازے، اور اظہار کی زبان صرف تب کھل سکتی ہے جب سردار، حکومت گٹھ جوڑ، اور قبائلی ذہنیت کو چیلنج کیا جائے۔ کاروں کاری کے خلاف جنگ صرف عورتوں کے لیے نہیں یہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو آزادی، برابری اور انصاف کا حامی ہے۔
اگر حکومت واقعی جمہوریت، آئین، اور انسانی حقوق پر یقین رکھتی ہے، تو اُسے قبائلی نظام، غیرت کے نام پر قتل، اور جِرگہ کلچر کو غیر قانونی قرار دینا ہوگا۔ اور سب سے پہلے، اُسے اپنے اندر چھپے اس سرداری ذہن کو شکست دینا ہوگی جو ہر ترقی پسند آواز کو کچلنا چاہتا ہے۔























