کراچی میں “اُڑان پاکستان – تخلیقی و ثقافتی معیشت” کا شاندار آغاز

وفاقی وزیر احسن اقبال کی قیادت میں فن، ثقافت، موسیقی اور میڈیا انڈسٹری کے ستارے ایک پلیٹ فارم پر یکجا

کراچی، 28 جولائی 2025:
وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے ’اُڑان پاکستان – تخلیقی و ثقافتی معیشت‘ کے عنوان سے ایک بڑے اور پُروقار ایونٹ کا انعقاد کراچی میں کیا گیا، جہاں فلم، ڈرامہ، موسیقی، آرٹ اور پرفارمنگ آرٹس سے وابستہ نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب میں تخلیقی انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور حکومتی تعاون کی ضرورت پر کھل کر گفتگو ہوئی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
“اُڑان پاکستان کوئی وقتی مہم نہیں بلکہ ایک قومی عزم ہے، جس کے تحت ہم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور 5Es فریم ورک کے تحت، ہم نے آٹھ اہم شعبہ جات کو برآمدات کی بنیاد پر شناخت کیا ہے، جن میں تخلیقی معیشت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تخلیقی شعبہ بے پناہ امکانات رکھتا ہے لیکن اسے ماضی میں نظرانداز کیا گیا۔ “یہ رات ایک نئے باب کا آغاز ہے، جہاں ہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں گے، اسے پنپنے کا موقع دیں گے اور دنیا کے سامنے پاکستان کی نئی شناخت پیش کریں گے۔”

وزیر منصوبہ بندی نے زور دیا کہ یہ شعبہ نہ صرف ثقافتی سرمایہ ہے بلکہ معاشی ترقی کا انجن بھی ہے۔
“دنیا بھر میں تخلیقی انڈسٹری 2.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن چکی ہے، جس سے غیر ملکی زرمبادلہ اور قومی برانڈنگ حاصل کی جا رہی ہے۔ ترک ڈرامہ انڈسٹری اور بھارت کی 20 ارب ڈالر کی تخلیقی برآمدات اس کی مثال ہیں۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان، جو کبھی عالمی سطح پر مقبول ڈرامے تخلیق کرتا رہا، آج بھی 80 سے 100 ڈرامے سالانہ بناتا ہے لیکن حکومتی سپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے فقدان کے باعث یہ شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔

“ہمیں ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو فنکاروں، لکھاریوں اور موسیقاروں کے حقیقی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔”

احسن اقبال نے اس شعبے کو “سوفٹ پاور” اور “نیشن برانڈنگ” کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا:
“جو قومیں دنیا کو اپنے بیانیے سے متاثر کرتی ہیں، وہی اصل اثر رکھتی ہیں۔ فلم، میوزک اور آرٹ، پالیسی دستاویزات سے زیادہ دلوں کو چھو سکتے ہیں۔ پاکستان کی کہانی کو دنیا تک پہنچانا ہمارا قومی فرض ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے پائیدار ترقی حاصل کرنی ہے تو ہمیں سیاحت، فن، آئی ٹی اور تفریحی صنعت جیسے شعبوں کو معیشت کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے، رکاوٹیں دور کرنے اور ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کا عزم دہرایا:
“2047 میں جب پاکستان اور بھارت آزادی کی 100 سالہ تقریبات منائیں گے، تو ہمیں ایک ترقی یافتہ، تخلیقی اور پراعتماد پاکستان دنیا کو دکھانا ہوگا۔ یہ سفر ہمارے فنکاروں، کہانی کاروں اور خواب دیکھنے والوں کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔”

وزارتِ منصوبہ بندی نے اس موقع پر تخلیقی معیشت کو قومی ترقی کے اہم ستون کے طور پر اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا — جو صرف برآمدات ہی نہیں، بلکہ قومی شناخت، امید اور روشن مستقبل کی علامت بھی بنے گا۔