پاکستان کا موسم چین اور فلپائن کے مقابلے زیادہ متغیر ہے۔ گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے چاول کی دو فصلیں بیک وقت اگانا ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے


لاڑکانہ رپورٹ محمد عاشق پٹھان
ڈائریکٹر جنرل زراعت سندھ ڈاکٹر مظہر کیریو نے کہا ہے کہ پاکستان کا موسم چین اور فلپائن کے مقابلے زیادہ متغیر ہے۔ گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے چاول کی دو فصلیں بیک وقت اگانا ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ ہمارے زرعی ماہرین دو فصلوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ رائیس ریسرچ سینٹر ڈوکری کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی زراعت سندھ ڈاکٹر مظہر کیریو نے کہا کہ رائیس ریسرچ سینٹر ڈوکری کے چاول کی اجناس سندھ سدھار ورائٹی نے توقع سے زیادہ پیداوار دے کر ہائبرڈ بیج کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کچھ اقسام پائپ لائن میں ہیں اور منظوری کے بعد جلد ہی مارکیٹ میں پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی کوششوں سے غیر معیاری بیج کو مارکیٹ سے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے لیے زرعی ریسرچ اور سیڈ کارپوریشن کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، اور کچھ غیر معیاری بیج کمپنیاں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر آر سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اشرف سومرو کی ریٹائرمنٹ کے بعد ادارے کے اعلیٰ افسر کو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر آر سی ڈوکری کے کچھ افسران یہاں سے تنخواہیں لیتے ہیں لیکن ٹنڈو جام سنٹر میں کام کرتے ہیں جن کا جلد تبادلہ کر کے ڈوکری بھیج دیا جائے گا۔ ڈی جی زراعت سندھ ڈاکٹر مظہر کیریو نے کہا کہ رائس ریسرچ سینٹر ڈوکری ایشیا کا دوسرا بڑا چاولوں پر تحقیقاتی ادارا ہے، دادو کینال کا پانی چاول کی فصل کے لیے ناکافی ہے۔ قریبی رائس کینال سے ایک برانچ کی منظوری دی گئی ہے تاہم ریلوے لائن کی وجہ سے کچھ اعتراضات ہیں جس کے لیے ریلوے حکام سے بات چیت جاری ہے۔ اس موقعے پر آر آر سی ڈوکری کے انچارج امجد شجرہ اور زرعی تحقیقاتی ادارہ ٹنڈو جام کے ڈائریکٹر امداد سوہو، اسٹیٹ افسر شبیر خاصخیلی، زرعی سائنٹسٹ نعیم شیخ اور ارشاد دستی بھی موجود تھے۔