دریائے سندھ کا سیلابی ریلا متعدد علاقوں میں داخل

دریائے سندھ میں آنے والا شدید سیلابی ریلا مختلف شہروں میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ تونسہ کے مقام سے گزرنے والا ریلا ڈی جی خان کی حدود میں پہنچ گیا ہے، جبکہ جھنگ میں دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دس سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں وسیع زرعی اراضی اور رہائشی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ کئی رابطہ سڑکیں پانی میں ڈوب جانے کے باعث بند ہو چکی ہیں، جبکہ راجن پور میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوسری طرف حافظ آباد میں دریائے چناب کے کنارے زمین کے کٹاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، اور متعدد دیہاتوں کی سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین دریا برد ہو چکی ہے۔

تونسہ شریف کے مقام پر بھی صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں سیلابی پانی نے فصلوں اور گھروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انتظامیہ نے ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

کشمور کے علاقے گڈو بیراج پر پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث حکام نے درمیانے درجے کا سیلاب قرار دیا ہے۔

مزید برآں، حافظ آباد اور سکھیکی کے بعض دیہاتوں میں دس روز گزرنے کے باوجود بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی، جس سے زمینی راستے بند اور مقامی افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب بھر میں 31 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ دریا اور ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ان خطرات کے پیش نظر پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے الرٹ جاری کر دیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔