اسلام آباد میں چینی کا بحران شدت اختیار کر گیا

اسلام آباد کی مختلف مارکیٹوں میں چینی کی قلت نے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، لوگ دکانوں اور بازاروں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں لیکن کہیں بھی چینی دستیاب نہیں۔

دکانداروں کے مطابق، چینی کا سرکاری نرخ 172 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن انہیں منڈی سے یہ 178 سے 188 روپے فی کلو میں مل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول ٹیموں کی کارروائیوں اور گرفتاریوں کی وجہ سے انہوں نے چینی فروخت کرنا بند کر دی ہے۔

شہریوں کا شکوہ ہے کہ ایک ایسا ملک جو چینی کی پیداوار میں خودکفیل ہے، وہاں اگر چینی نایاب ہو جائے تو دیگر اشیاء کی فراہمی کا کیا حال ہوگا؟

چینی ڈیلرز کا دعویٰ ہے کہ شوگر ملز نے 165 روپے فی کلو کے ایکس مل ریٹ پر حکومت سے معاہدہ کیا ہے، مگر اس کے باوجود انہوں نے چینی کی ترسیل روک دی ہے اور بازاروں میں اسٹاک ختم ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ادھر حکومت نے چینی کی قلت کے خدشے کے پیش نظر فوری ایکشن لیتے ہوئے چینی ایکسپورٹرز اور ڈیلرز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی وزیر رانا تنویر کی زیر صدارت آج شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ عوام کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کو کیسے یقینی بنایا جائے اور معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیسے کرایا جائے۔