شکارپور (سندھ) کے نزدیک ریلوے لائن پر ہونے والے ایک اور دھماکے کے نتیجے میں پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو ایک مرتبہ پھر حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سلطان کوٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ریل کی تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے باعث ٹریک کو شدید نقصان پہنچا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ حادثے کے بعد ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی اور متاثرہ ٹریک کی مرمت کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا گیا، جسے مکمل ہونے میں تقریباً 10 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے — اس سے قبل بھی بولان کے علاقے پیرو کنری میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر نامعلوم دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ اُس وقت ٹرین پر شدید فائرنگ کی گئی، جس کی وجہ سے وہ 8 نمبر سرنگ کے اندر رک گئی۔ بعد ازاں ریلوے ٹریک پر نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ٹرین کی بوگیاں ڈی ریل ہو گئیں۔
واقعے کے وقت ٹرین میں تقریباً 500 مسافر سوار تھے۔ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت یرغمال تمام مسافروں کو بازیاب کرایا گیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں نے انسانی ڈھال کے طور پر عورتوں اور بچوں کا استعمال کرنے کی کوشش کی، مگر فورسز نے بہادری اور مہارت سے کارروائی کرتے ہوئے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور یرغمال افراد کو بحفاظت نکال لیا۔
یہ واقعات ریلوے نظام کی سیکیورٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں اور ان میں تسلسل نے عوام میں خوف اور تشویش پیدا کر دی ہے۔























