ممتاز صحافی ڈاکٹر مجید نظامی: نظریاتی صحافت کا مینار، ایک عہد کی داستان!

نعیم اختر
==========


26جولائی 2014ء کو صحافت
کا ایک روشن چراغ بجھ گیا جب پاکستان کے نامور، بے باک
اور نظریاتی صحافی،رہبر
پاکستان ،آبروئےصحافت ڈاکٹر مجید نظامی ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات کو آج گیارہ سال بیت چکے ہیں مگر ان کی خدمات، فکر، جرأت اور زبان و قلم کی حرارت آج بھی دلوں کو گرماتی ہے اور نظریاتی کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مجید نظامی صرف ایک مدیر نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کے محافظ، تحریکِ پاکستان کے گواہ اور قومی خودی کے مبلغ تھےاور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک نظریاتی محاذ بنایا جہاں وہ روز قلم کے ہتھیار سے پاکستان دشمن قوتوں اور غیر نظریاتی سیاستدانوں کے خلاف صف آراء رہتے۔
1940 میں قائم ہونے والا “نوائے وقت” ان کے بڑے بھائی حمید نظامی کا خواب تھا، جسے ڈاکٹر مجید نظامی نے خونِ جگر سے سینچا۔ 1962ء میں بھائی کے انتقال کے بعد ادارے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور پھر نصف صدی سے زائد عرصہ نوائے وقت گروپ کو ایک نظریاتی قلعہ کی حیثیت سے استوار رکھا۔
ان کے دور میں نوائے وقت صرف اخبار نہیں رہا بلکہ تحریکِ پاکستان کی آواز، اسلامی تشخص کا ترجمان اور قومی وقار کا پاسبان بن چکا تھا۔ڈاکٹر مجید نظامی کی زندگی جرآت و صداقت کا استعارہ ہے انہوں نے ہمیشہ آمریت کے خلاف آواز بلند کی چاہے وہ جنرل ایوب ہو، جنرل ضیاء یا پرویز مشرف۔ ان کی جرأت مندانہ تحریریں اور بیانات کسی بھی حکومتی دباؤ کے آگے نہ جھکے۔
انہوں نے نواز شریف، بے نظیر بھٹو سمیت ہر سیاسی قائد کو جمہوریت اور پاکستانیت کے دائرے میں رہنے کا سبق دیا اور کئی بار اپنے اداریوں میں سخت تنقید بھی کی مگر ذاتی مفاد یا مصلحت کبھی ان کے قلم کے آڑے نہ آئی، بھارت کی جانب سے پانچ ایٹمی دھماکوں پر پاکستان کی جانب سے جوابی ایٹمی دھماکے کرنے میں تاخیر پر مجید نظامی کی اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو یہ دھمکی کہ اگر تم نے دھماکے نہ کئے تو قوم تمہارا دھماکہ کر دےگی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے
ڈاکٹر مجید نظامی کا سب سے دوٹوک اور اصولی مؤقف بھارت کے حوالے سے رہاہےوہ ہمیشہ کہتے تھے کہ:

> “ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے، اور کشمیر کو آزاد کرانا ہمارا فرض اور اگر کشمیر کی آزادی کے لیے جنگ لڑنی پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کیا جائے کشمیر کی آزادی کے لیے میری ضرورت پڑے تو مجھے بھی میزائل پر باندھ کر بھارت پر چھوڑ دیا جائے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے کتنے جذباتی تھے۔

وہ کسی بھی قیمت پر بھارت سے مصلحت پر مبنی امن کے قائل نہ تھے۔ وہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے پرزور حامی تھےاور ان کا مشہور جملہ:

> “اگر بھٹو ایٹمی پروگرام پر کھڑا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں ورنہ میں اس کا مخالف ہوں!”

تاریخ میں سنہری الفاظ میں درج ہے۔ڈاکٹر مجید نظامی نے صرف صحافت تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ “نظریہ پاکستان ٹرسٹ” کے ذریعے نئی نسل کو دو قومی نظریہ ،وطن عزیز کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ و حفاظت ،پاکستان کے قیام کے مقاصد، قائد اعظمؒ، علامہ اقبالؒ اور تحریک پاکستان کی اصل روح سے روشناس کرانے کا عزم کیا۔انہوں نے “پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ” کی نصابی اصلاحات میں بھرپور کردار ادا کیا اور اسلامی و قومی نظریے پر مبنی تعلیم کے حق میں آواز بلند کی۔
ڈاکٹر مجید نظامی کو ان کی خدمات پر بے شمار اعزازات
سے نوازا گیا جن میں
نشانِ امتیاز،
ستارۂ پاکستان،
ستارۂ قائداعظم اور
ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں
شامل ہیں مگر سب سے بڑا اعزاز ان کے لیے عوام کی بے پناہ محبت اور نظریاتی وفاداری ہے۔
آج جب صحافت میں نظریہ کمزور اور کمرشل ازم بڑھ چکا،ڈاکٹر مجید نظامی کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:

> “صحافت فقط خبروں کی ترسیل نہیں یہ قوم کی فکری و نظریاتی حفاظت کا ہتھیار ہے۔”

نئے صحافیوں کو چاہیے کہ وہ نظریاتی صحافت کو صرف ماضی کا قصہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے قوم کی بقا کا ضامن جانیں۔ڈاکٹر مجید نظامی اب ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کی فکر، ان کا کردار، اور ان کی نظریاتی جہاد آج بھی زندہ ہے۔ ان کی 11ویں برسی پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ان کے چھوڑے گئے فکری ورثے کو نہ صرف زندہ رکھیں گے بلکہ آنے والی نسلوں تک پہنچائیں گے۔