صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک نجی کوریئر کمپنی کے ڈلیوری بوائے کے خلاف 1 لاکھ 21 ہزار روپے کی ڈکیتی کا معاملہ حل ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف کیا ہے کہ ڈلیوری بوائے خود اس واردات کا ماسٹر مائنڈ تھا اور اس نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر رقم ہتھیانے کے لیے جعلی ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا۔ اس کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ممکن ہوئی۔ ملزمان سے نقدی کے ساتھ ساتھ 2 پستول اور موبائل فون بھی برآمد ہوئے۔
بتایا گیا ہے کہ 21 جولائی کو ڈلیوری بوائے کمپنی کا کیش لے کر جا رہا تھا کہ اسی دوران ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ کیا۔ تاہم، سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو جعلی ڈکیتی کے بعد فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ گرفتار ملزمان آپس میں رشتہ دار ہیں اور انہوں نے چند دن پہلے یہ سازش تیار کی تھی۔ گرفتار افراد میں ڈلیوری بوائے زین، محسن، اور احسن شامل ہیں جن کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
اسی طرح لاہور کے ڈیفنس بی علاقے میں چینی باشندے شی ڈیپو کے گھر سے 1 کروڑ 80 لاکھ روپے کی چوری کے ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایس ایچ او ڈیفنس بی علی حسن کی قیادت میں پولیس ٹیم نے کارروائی کی، جس میں یہ پتہ چلا کہ گھر کے ملازم ہی اس چوری کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
ملزمان نے پولیس کو زیادہ وقت نہیں دیا اور 36 گھنٹوں کے اندر بہاولپور سے گرفتار کر لیے گئے۔ گرفتار افراد میں مرکزی ملزم علی عزیز، شبیر اور امتیاز شامل ہیں۔ ان کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عمل میں آئی، اور دوران تفتیش ملزمان نے جرم قبول کر لیا۔ ملزمان سے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے نقدی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔























