بشریٰ انصاری کا سوات واقعے پر اظہار افسوس

معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے سوات میں ایک مدرسے کے استاد کے مبینہ تشدد سے کمسن طالبعلم کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

بشریٰ انصاری ہمیشہ سے معاشرتی مسائل پر کھل کر بولتی آئی ہیں اور وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کی داعی رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مدارس کے نظام کو باقاعدہ رجسٹر کیا جائے اور ان پر مؤثر نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ اس قسم کے المناک واقعات کو روکا جا سکے۔

اداکارہ کے مطابق کچھ مدرسوں میں ایسے غیر تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں جو بچوں کو ڈرا دھمکا کر تعلیم دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ اسلامی اصولوں کی سراسر نفی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اساتذہ میں اعتدال کی کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اس طرح کے افسوسناک واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بشریٰ انصاری نے اس سانحے کی ذمہ داری صرف مدارس یا حکومتی اداروں پر نہیں ڈالی بلکہ والدین کو بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا، جنہیں بچوں کی تربیت اور تحفظ کے حوالے سے مزید حساس اور باشعور ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی بات سنیں، ان کے جذبات کو سمجھیں اور اگر بچہ کہیں جانے سے انکار کرے تو اس کی بات کو سنجیدگی سے لیں، صرف بہانہ نہ سمجھیں بلکہ اس پر توجہ دیں اور مکالمہ کریں۔