بلوچستان میں حالیہ غیرت کے نام پر قتل کے اندوہناک واقعے کی بازگشت ابھی تھمی نہیں تھی کہ راولپنڈی کے علاقے پیر ودھائی سے ایک اور افسوسناک خبر سامنے آگئی۔ نوجوان لڑکی سدرہ، جس نے اپنی پسند سے شادی کی تھی، کو مبینہ طور پر ایک جرگے کے فیصلے پر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، سدرہ اپنی مرضی کی شادی کے بعد شدید دباؤ کا شکار تھی اور کچھ وقت کے لیے کشمیر فرار ہو گئی تھی۔ تاہم، اسے واپس لا کر مبینہ طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی یہ واردات 17 جولائی کو پیش آئی۔
قتل کے بعد لاش کو رات کی تاریکی میں خاموشی سے دفنایا گیا، حتیٰ کہ قبر کا نشان بھی مٹا دیا گیا تاکہ شواہد چھپائے جا سکیں۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے قبرستان کمیٹی کے سابق چیئرمین اور ایک گورکن کو گرفتار کر لیا ہے۔
مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس نے عدالت سے مقتولہ کی قبر کشائی کی اجازت بھی مانگی ہے، جس پر عدالت کل فیصلہ سنانے والی ہے۔
پولیس کے مطابق سدرہ کے شوہر ضیاء الرحمان کی مدعیت میں جو مقدمہ درج کیا گیا، اس میں مقتولہ پر زیورات اور نقدی لے کر فرار ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سدرہ ایک نوجوان عثمان کے ساتھ فرار ہوئی تھی۔
ادھر چند روز قبل بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں بھی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ایک جوڑے کو مرضی کی شادی پر سرعام گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس ہولناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں مسلح افراد کو جوڑے کو گھیرتے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس لرزہ خیز واقعے پر وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو کارروائی کا حکم دیا تھا۔ حکام کے مطابق، ایک مشتبہ قاتل کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ریاست کی مدعیت میں دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے اس سلسلے میں واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایسی بربریت معاشرتی اقدار اور انسانی وقار کی کھلی تذلیل ہے، اور ایسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔























