لاڑکانہ پرووینشل ہائی ویز سرکل لاڑکانہ میں آٹھ ارب روپئے سے زائد کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کا انکشاف, نیب کی جانب سے چیف انجینئر کو ریکارڈ سمیت طلب کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا

لاڑکانہ رپورٹ محمد عاشق پٹھان

لاڑکانہ پرووینشل ہائی ویز سرکل لاڑکانہ میں آٹھ ارب روپئے سے زائد کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کا انکشاف, نیب کی جانب سے چیف انجینئر کو ریکارڈ سمیت طلب کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا


عبدالمجید پنھیار


یار محمد منگنیجو

نیب کی جانب سے پراوینشل ہائی ویز سرکل لاڑکانہ میں حالیہ دیئے گئے آٹھ ارب روپئے کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے چیف انجینئر پراوینشل ہائی ویز سرکل لاڑکانہ عبدالمجید پنھیار کو تحقیقات کے لیے درکار ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا گیا جبکہ نیب ذرائع کہ مطابق چیف انجینئر کے مبینہ فرنٹ مین ٹینڈر کلرک یار محمد منگنیجو کی بھی اربوں روپئے کی جائیداد سامنے آئی ہے
یار محمد منگنیجو 1993 میں نائب قاصد بھرتی ہوا تھا، 2004 میں جونئیر کلرک اور 2020 میں سینئیر کلرک بنا جبکہ انکی نجی جائیداد میں لاڑکانہ کے پوش علاقے کا بنگلا، کراچی میں چار فلیٹس، ٹف ٹائئل فیکٹری، 25 ایکڑ زرعی ایراضی، جنرل اسٹور اور سعودی عرب میں کھجوروں کے باغات شامل ہیں جبکہ وہ مبینہ طور پر چار رجسٹرڈ کمپنیز میں مبینہ شراکت دار بھی ہے جن میں اوم پرکاش کمپنی، بسمہ کریٹ، زیڈ ایم سی، زیڈ آئی بی اور بلال کنسٹرکشن شامل ہیں نیب ذرائع کہ مطابق متعلقہ ٹھیکے منظور نظر ٹھیکیداروں کو بھاری کمیشنز لے کر دیئے گئے ہیں۔
=============================