
The Tourism Club (TTC)
Mohammad Azeem Shah Bukhari
رُک جانا ہے۔۔۔۔
مجھے رُک جانا تھا۔۔۔۔۔
مجھے رُک ہی تو جانا تھا۔۔۔۔۔
==============
جب سے رضا علی عابدی کی کتاب ”ریل کہانی“ پڑھی تھی، مجھے رُک ریلوے اسٹیشن دیکھنے کاشوق چڑھ گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ کوئٹہ سے لے کر کلکتہ تک کے سفر میں ایک چھوٹے سے گمنام ریلوے اسٹیشن اوپر ایک پورا باب لکھ دینا کوئی عام بات نہ تھی۔ اس اسٹیشن میں کچھ تو خاص ہوگا اور وہی خاص دیکھنے کے لیٸے میں رک جانا چاہتا تھا۔
رُک جانے کا موقع تو کئی دفعہ ملا لیکن میں وہ مواقع استعمال نہ کر سکا۔ گزشتہ سال بھی سندھ کے ٹور میں جب شکارپور جانے کا پلان بنا تو ہم رک دیکھ سکتے تھی لیکن علاقے کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے میں نے وہ علاقہ سفر کے پلان سے نکال دیا کہ میں اپنی وجہ سے اپنے دوستوں کی جان کو مشکل میں نہیں ڈال سکتا تھا۔

پھر اس سال ایک اور موقع ملا جب ہمارے دوست خواجہ احمد حفیظ کا جنم دن آیا اور اس نے مجھے کہا کہ مجھے کہیں لے چلو، کہیں بھی اور میرا ذہن سیدھا رک جا پہنچا۔ اگرچہ یہاں تک کا راستہ اب بھی کچھ زیادہ محفوظ نا تھا لیکن، اس دفعہ میں نے ٹھان لیا تھا کہ کچھ بھی ہو، میں نے رک جانا ہی جانا ہے۔ اگرچہ تھوڑا بہت رسک تو تھا، اور وہی رسک کیلکولیٹ کر کے میں نے سب سے پہلے سکھر میں موجود اپنے دوست سمیع کو میسج کیا کہ مجھے رک دکھا دیں۔۔۔۔۔۔
وہ حیران پریشان ہو کر بولے رک کہاں ہے۔۔۔؟

میں نے کہا آپ کے پاس ہی تو ہے، شکارپور اور سکھر کے بیچ میں۔ لیکن انہیں سمجھ نہ آٸی کیونکہ وہ بھی یہاں پہلے کبھی نہیں گٸے تھے۔۔۔۔۔ میرے لیٸے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ویسے بھی میں اپنے دوستوں میں اس حوالے سے جانا جاتا ہوں کہ ”شاہ جی آتے ہیں تو ہمیں بھی اپنا شہر تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے “ ۔ 😄

سمیع بھائی نے اس جگہ کو تلاش کیا اور مجھے کہا کہ شاہ جی اس کے راستے میں ایک دو ایسے گاؤں پڑتے ہیں جہاں پر چوری ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں ہوتی ہیں اور تھوڑا سا آگے کچے کا علاقہ ہے۔ میں نے کہا سمیع بھائی اس دفعہ مجھے یہ اسٹیشن دکھا دیں قدرت اور اللہ تعالی کے فیصلے بھی ہمارے ساتھ تھے وہاں پر ان اور قدرت کو ہم پہ رحم آ گیا۔۔۔۔۔ انہیں وہاں ایک مقامی دوست مل گیا جس نے ساتھ چلنے کی حامی بھری اور انہوں نے مجھے کہا کہ








اپ اب آ جائیں ہم رک چلیں گے۔۔۔۔۔۔
بس یہ سننا تھا کہ میں نے ہفتے کی شالیمار کی ٹکٹ کرائی اور احمد کو لے کر شالیمار پہ چڑھ بیٹھا جو کہ رحیم یار خان اور گھوٹکی سے ہو کر رات کو روہڑی پہنچی۔
رات کو روہڑی جنکشن اتر کے ہم سکھر پہنچے۔ اپنے ہوٹل میں چیک ان کیا رات کا کھانا کھایا اور سکھر کی سوغاتیں کینے گھنٹہ گھر جا پہنچے۔ پہلے منے کا کلچہ کھایا ، پھر دربار سوٸیٹس کی امرتی لی اور سکھر کے مشہور ڈوکے لے کر ہوٹل آ گٸے۔
اس رات بارش برسی اور اچھی خاصی برسی، بجلی کی آنکھ مچولی نے بھی سونے نہ دیا۔ صبح سویرے ہم اٹھے تو سمیع بھائی کے پہنچنے کا پیغام ملا۔ ہم نے بھی جلدی جلدی تیاری کی اور سمیع بھائی اور ان کے ایک دوست کے ساتھ دو عدد موٹر باثکس ہر ہم چار لوگ شکارپور کی جانب روانہ وٸے۔۔۔
پہلی بریک چاٸے کے لیٸے ایک ہوٹل پر لگی اور دوسری لکھی غلام شاہ جہاںسے ہم نے مزمل کو لیا جو سمیع الرحمان کا مقامی سندھی دوست تھا۔ مزمل ہی وہ بندہ تھا جو ہمیں رک کے ریلوے اسٹیشن تک صحیح سلامت لے کر جا سکتا تھا۔
بادلوں کے ساتھ ہلکی بارش ہو رہی تھی اور اندرون سندھ کے ہم گمنام علاقوں میں، دھان کے کھیتوں کے بیچ سے گزر رہے تھے۔ پھر سکھر بیراج سے نکالی گٸیں تین نہروں دادو، راٸس و کیرتھر کینال کو پار کیا جن کی چوڑاٸی کسی بھی چھوٹے ملک کے سب سے بڑے بڑے دریا جتنی تھی۔۔۔۔۔ تمام نہریں لبالب تھیں۔۔۔۔۔ اور یہاں سے مجھے ایک خوبصورت ریلوے کیبن نظر ایا جس پر وہی الفاظ لکھے تھے جس کی مجھے تلاش تھی۔۔۔۔۔۔۔رُک۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
تحریر و تصاویر
محمد عظیم شاہ بخاری























