
The Karakoram Club
Adnan Alam Awan
گلگت بلتستان سے کل ہی واپسی ہوئی، بابوسر کا سانحہ 21 جولائی کو پیش آیا، اسی تاریخ کی میری کھینچی ہوئی یہ تصویر ہے جب روڈ ہلاک ہونے کی وجہ سے میں گلگت ہنزہ سے بابوسر نہ پہنچ سکا اور شام کو خبر آئی اس سانحہ کی۔
لکھنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں، کچھ اہم نقاط ضرور عرض کروں گا:
1. یہ مقامی افراد ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے respond کیا، لہزا کسی بھی معاملے میں community empowerment and awareness سب سے اہم ہے۔
2. مقامی افراد کا مطالبہ تھا کہ گلگت بلتستان میں تمام موبائل کمپنیوں کو اجازت دی جائے تا کہ ہنگامی حالات میں بہتر رابطہ ممکن ہو۔
3. بارشوں کے موسم کے دوران ضلعی انتظامیہ اور رضاکار مل کر عوام اور سیاحوں کی راہنمائی کریں ۔
4. مون سون کے دوران اسپیشل ٹریول ایڈوایذی جاری کی جائے جو کہ گلگت بلتستان اور باقی پہاڑی علاقوں کے entry points پر عوام کو فراہم کی جائیں ۔
=======================
چلاس: تھک نالہ میں درجنوں سیاحوں کی گاڑیاں اچانک ریلے میں کیسے پھنسیں؟
چلاس: تھک نالہ میں درجنوں سیاحوں کی گاڑیاں اچانک ریلے میں کیسے پھنسیں؟
چلاس کے علاقے تھک نالہ میں درجنوں سیاحوں کی گاڑیاں اچانک سیلابی ریلے میں کیسے پھنسی اور اتنا بڑا جانی نقصان کیسے ہوا؟ علاقے کے عینی شاہدین نے بتا دیا۔
تھک نالے کے قریب عینی شاہدین نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اچانک سیلاب آنے کے وقت بھی وہاں 14/15 گاڑیاں کھڑی تھیں، لوگوں نے آوازیں دیں لیکن پھر بھی کچھ سیاح گاڑیوں میں بیٹھے رہے۔
عینی شاہد نے کہا کہ گاڑی پر پتھر گرے پھر لوگ وہاں سے بھاگے، اس دوران کچھ لوگ لینڈ سلائیڈنگ کی ویڈیو بھی بناتے رہے۔
بابوسر سیلاب میں بہہ جانے والی ڈاکٹر مشعال کے 3 سالہ بیٹے کی لاش بھی مل گئی
بجلی کے پول اور متعدد گاڑیاں اب بھی تھک نالے کے قریب دھنسی ہوئی ہیں، مقامی لوگ اور ریسکیو اہلکاردھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکال رہے ہیں۔
تباہ ہونے والی کوسٹر میں کھانے پینے کا سامان، پانی کی بوتلیں اور بچوں کے واکر موجود ہے، سیاحتی مقام پر موجود ہوٹل کی پارکنگ میں محفوظ رہ جانے والی کئی گاڑیاں کھڑی ہیں۔
سڑک بہہ جانے سے آمدروفت معطل ہو گئی اور سیاح گاڑیوں کے لیے پریشان ہیں، جگہ جگہ گرنے والے پہاڑی تودوں میں کچھ سرکاری گاڑیاں بھی پھنسی ہوئی ہیں۔
=======================
اسلام آباد: کار سمیت بہہ جانے والے باپ اور بیٹی کی لاشیں تیسرے روز مل گئیں
اسلام آباد: کار سمیت بہہ جانے والے باپ اور بیٹی کی لاشیں تیسرے روز مل گئیں
اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے باپ اسحاق اور ان کی بیٹی کی لاشیں آج ریسکیو آپریشن کے دوران تیسرے روز مل گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق باپ اور بیٹی کی لاشیں ایک ہی مقام سے ملی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق گاڑی کا بونٹ اور دروازہ دریائے سواں پُل کے نیچے سے ملا۔
خیال رہے کہ دونوں باپ بیٹی 22 جولائی کی صبح سوا 8 بجے گھر سے نکلتے ہی تیز پانی میں گاڑی سمیت بہہ گئے تھے۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل گاڑی کا بمپر اور سائیڈ مرر امدادی ٹیموں کو ملا تھا۔























