وناسپتی مینو فیکچررز کی غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی دھمکی

ایس آئی ایف سی کی موجودگی میں فیڈریشن اور ایف بی آر کے مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید میں ہڑتال کو 48گھنٹوں کیلئے مؤخر کی، شیخ عمر ریحان

جنرل باڈی اجلاس میں ممبران کا متفقہ طور پر ہڑتال کا فیصلہ ،مذاکرات سے حل کی کوشش ، چیئرمین پی وی ایم اے

کراچی( )پاکستان وناسپتی مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے گھی صنعتیں غیر معینہ مدت کیلئے بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایف بی آر کو دئیے گئے اختیارات 48 گھنٹوں میں واپس لے،اگر 2دن میں مطالبات نہ مانے توملک بھر کی گھی ملوں کو تالا لگا دینگے۔ چیئرمین وناسپتی مینو فیکچررزایسوسی ایشن شیخ عمر ریحان نے بدھ کو مقامی ہوٹل میں ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیشن کونسل(ایس آئی ایف سی)کی موجودگی میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) اورفیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کےدرمیان مثبت نتائج کے امید کے باعث ہڑتال کو 48گھنٹوں کیلئے موخر کیاہے لیکن ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی ہم ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ جنرل باڈی اجلاس میں ممبران نے متفقہ طور پر فوری ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم اسلام آباد میں ایس آئی ایف سی اجلاس کے باعث مذاکرات کامیاب ہونے کی امید میں 2 دن کی مہلت دے رہے ہیں۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ ہڑتال کے سخت فیصلے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تاکہ عوام کو گھی اور تیل کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور حکومت کو ٹیکس ریونیو کے حصول میں مشکلات درپیش نہ ہوں۔چیئرمین پی وی ایم اے نے کہا کہ گھی اور تیل کی صنعت پیٹرولیم مصنوعات کے بعد دوسری بڑی ٹیکس ادا کرنے والی انڈسٹری ہے، حکومت کو ان خدمات پر ایوارڈ دے، لیکن بدقسمتی سے انڈسٹری کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھی و تیل کی صنعت پہلےہی امپورٹ پر 35 فیصداور فروخت پر مزید 10 فیصد ٹیکس کے ساتھ مجموعی طور پر 45 فیصد سے زائد ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ ایسے میں سیکشن 40بی، 40 سی ، 21 ایس اور 8 بی جیسے قوانین کے نفاذ اور ایف بی آر کی جانب سے گھی انڈسٹری میں حکام کو تعینات کرنے سے صنعتکاروں پر غیر ضروری دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ اگر چیئرمین ایف بی آر کے فرائض کی انجام دہی میں ان کی نگرانی کیلئے نیب کے حکام کو تعینات کیا جائے تو وہ کس طرح کام کرسکتے ہیں۔ اسی طرح گھی انڈسٹری پر بھی ایف بی آر حکام کو نیب کی طرز پر تعینات کیا جارہا ہے اور حکام کے اختیارات سے تجاوز کرکے غیر ضروری دخل اندازی سے انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قبل ازیں اجلاس میں سینر وائس چیئرمین اسجد عارف، وائس چیئرمین شیخ خالداسلام،سمیت ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین مسعودپرویز، رشید جان محمد اوردیگر بھی موجود تھے۔ شیخ عمرریحان نے مزید کہا کہ گھی ملوں کے ساڑھے 6 ارب روپے یوٹیلیٹی اسٹورز پر واجب الادا ہیں۔اس کے علاوہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کے بھی اربوں روپے حکومت کے ذمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھی کی صنعت ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئے تیار نہیں کیونکہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئے پوری انڈسٹری کو ڈیجیٹلائزاڈ ہونا ہوگا،جو راتوں رات ممکن نہیں۔

فوٹو کیپشن: چیئرمین پی وی ایم اے شیخ عمر ریحان پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں، سینئر وائس چیئرمین اسجد عارف، وائس چیئرمین شیخ خالد اسلام ،میاں نوید احمد، امین دادا، تصدق رسول، مسعود پرویز، چوہدری نوید، احمد غلام حسین، ارشد و دیگربھی موجود ہیں۔