
تحریر: نعیم اختر

جب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق کھولے جاتے ہیں تو کچھ نام جگمگاتے ستاروں کی مانند سامنے آتے ہیں۔ انہی میں ایک نمایاں، باکردار، بے داغ اور نظریاتی سیاستدان کا نام معراج محمد خان ہے، جنہوں نے نہ صرف آمریتوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا بلکہ نظریاتی سیاست کو عملی میدان میں ثابت قدمی کے ساتھ نبھایا۔
معراج محمد خان 1938 میں ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی آ گیا۔ تعلیم کے میدان میں وہ کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے، جہاں سے ان کی سیاسی تربیت اور جدوجہد کا آغاز ہوا۔ وہ یونیورسٹی کے سب سے فعال طلبہ رہنماؤں میں سے ایک تھے اور جلد ہی نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) کے پلیٹ فارم سے قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
معراج محمد خان کا شمار ان معدودے چند رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے طلبہ سیاست کو نظریاتی رنگ دیا۔ وہ سوشلسٹ سوچ کے حامل تھے اور مزدوروں، طلبہ، کسانوں، اور محروم طبقات کی نمائندگی کو ہمیشہ اپنا شعار بنایا۔
ساٹھ کی دہائی میں وہ ایوب خان کے مارشل لا اور ون یونٹ کے خلاف تحریکوں میں پیش پیش رہے۔ اُن کی انقلابی تقاریر اور بے خوف قیادت نے انہیں پورے ملک میں مقبول کر دیا۔
1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو معراج محمد خان بانی اراکین میں شامل تھے۔ وہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی رہے اور “روٹی، کپڑا اور مکان” جیسے انقلابی منشور کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے اقتدار کو ہمیشہ مقصد کے لیے ذریعہ بنایا، ذاتی مفادات یا عہدوں کے پیچھے کبھی نہ بھاگے۔ جب بھٹو دور میں پارٹی اقتدار میں آئی اور جب معراج محمد خان کو لگا کہ نظریاتی اصولوں سے انحراف ہو رہا ہے تو انہوں نے بڑی جرات کے ساتھ استعفیٰ دیا اور راستہ الگ کر لیا۔
معراج محمد خان کی زندگی آمریت کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے خلاف وہ صف اول کے رہنما رہے۔ انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، لیکن ان کے پایۂ استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔
وہ اکثر کہا کرتے تھے:

> “سچ بولنا اگر جرم ہے تو یہ جرم ہر نسل کو ورثے میں دینا ہو گا”

پیپلز پارٹی چھوڑنے کے بعد انہوں نے اپنی علیحدہ سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ ایک مختصر عرصہ تحریک انصاف کا بھی حصہ رہے لیکن نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر وہاں سے بھی علیحدہ ہو گئے۔
ان کی زندگی بھر کی سیاست اقتدار کی بجائے اصول، نظریہ اور کردار کے گرد گھومتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کے ان چند رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں جن پر بدعنوانی، موقع پرستی یا ذاتی مفاد کا کوئی داغ نہ ہے۔
معراج محمد خان 2016 میں دُنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اپنے پیچھے ایک روشن مثال چھوڑ گئے۔ اُن کی زندگی سیاستدانوں کے لیے ایک مینارِ نور ہے — ایک ایسا راستہ جو اصول پسندی، نظریاتی وفاداری اور بے داغ کردار کی علامت ہے۔
اگر آج کی پاکستانی سیاست میں خلوص، خدمت اور کردار کی کمی محسوس کی جا رہی ہے تو اس کا علاج معراج محمد خان کی زندگی میں موجود ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست عبادت ہے، مفاد نہیں؛ جدوجہد ہے، سازش نہیں؛ قربانی ہے، خودنمائی نہیں۔
قائداعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے بعد اگر کوئی ایسا سیاستدان ہے جس پر پوری قوم فخر کر سکتی ہے، تو وہ بلا شبہ معراج محمد خان ہیں۔























