پاکستان کا تجارتی خسارہ 9 ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھ کر 12.29 ارب ڈالر تک جا پہنچا

مالی سال 2024-25 میں پاکستان کا اپنے 9 قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 29.42 فیصد اضافے کے ساتھ 12.297 ارب ڈالر کی بلند سطح پر جا پہنچا، جو گزشتہ مالی سال میں 9.502 ارب ڈالر تھا۔ اگرچہ افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، لیکن مجموعی طور پر درآمدات میں تیزی سے اضافے نے تجارتی توازن کو مزید منفی کر دیا ہے۔

خطے کے ان ممالک کے ساتھ تجارتی روابط طویل عرصے سے حکومتی پالیسیوں اور دیگر رکاوٹوں کا شکار رہے ہیں۔ خاص طور پر چین، بھارت اور بنگلہ دیش سے درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس نے خسارے کو مزید بڑھا دیا۔ مالی سال 2023-24 میں ان تین ممالک سے ہونے والا تجارتی خسارہ 9.506 ارب ڈالر رہا، جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 49 فیصد زیادہ تھا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی 2023 سے جون 2024 تک پاکستان کی افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو برآمدات میں اضافہ ہوا، لیکن چین کو برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔ 9 ممالک — چین، بھارت، افغانستان، ایران، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ — کو مجموعی برآمدات 1.49 فیصد اضافے کے بعد 4.401 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ان ممالک سے درآمدات 20.66 فیصد اضافے سے 16.698 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

تفصیلی اعداد و شمار کچھ یوں ہیں:

چین سے درآمدات: 20.79 فیصد اضافے کے بعد 16.312 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ چین کو برآمدات 8.6 فیصد کمی سے 2.476 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔

بھارت سے درآمدات: 6.61 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو 20.69 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 22.05 کروڑ ڈالر ہو گئیں، لیکن برآمدات میں شدید کمی ہوئی جو محض 14.3 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔

افغانستان کو برآمدات: 38.68 فیصد اضافہ ہوا اور 77.38 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں، جبکہ درآمدات بھی دوگنی سے زیادہ ہوکر 2.59 کروڑ ڈالر ہو گئیں۔ رواں سال 7 لاکھ ٹن سے زائد چینی افغانستان کو برآمد کی گئی۔

ایران کے ساتھ تجارت: زیادہ تر غیر رسمی ذرائع سے کی جاتی ہے، اور حالیہ دنوں میں بارٹر نظام کے تحت تجارت کا آغاز کیا گیا ہے، خاص طور پر ایل پی جی اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے تناظر میں۔

بنگلہ دیش کو برآمدات: 19.08 فیصد اضافے کے ساتھ 787.35 ملین ڈالر تک پہنچیں، جبکہ درآمدات 38.47 فیصد بڑھ کر 78.31 ملین ڈالر ہو گئیں۔

سری لنکا کو برآمدات: 4.14 فیصد کمی سے 376.61 ملین ڈالر ہو گئیں، جس کی وجہ وہاں کی معاشی سست روی ہے۔

نتیجہ و سفارشات
اگرچہ چند ممالک کے ساتھ پاکستان کی برآمدات میں بہتری آئی ہے، تاہم درآمدات میں مسلسل اضافہ تجارتی خسارے کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ خطے کے ان ممالک کے ساتھ معاشی توازن بحال رکھنے اور خسارے پر قابو پانے کے لیے پالیسی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔