
TO THE NORTH
Xee Shan
جیسے ہی آپ بابو سر ٹاپ کی بلندی — جو تقریباً 13,700 فٹ ہے — پر پہنچتے ہیں اور وہاں سے چلاس کی جانب اترنا شروع کرتے ہیں، تو زمین کی اونچائی حیران کن حد تک کم ہونے لگتی ہے۔ صرف 10 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے میں بلندی 14,000 فٹ سے گر کر محض 4,000 فٹ تک آ جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ ٹھنڈا موسم — جو بابوسر پر 5 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے — اچانک چلاس کی 40 ڈگری کی جھلسا دینے والی گرمی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
جہاں میں نے سرخ نشان لگایا ہے، وہ چلاس سے لے کر جگلوٹ تک کا خطہ ہے، جو شدید گرم اور خشک علاقہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس “پیالہ نما وادی” کے چاروں طرف چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر بلند و بالا گلیشیئرز اور برف سے ڈھکے پہاڑ موجود ہیں، جن میں نانگا پربت جیسے عظیم الجثہ پہاڑ بھی شامل ہیں۔
ایسے خطے میں جب شدید گرمی، نمی سے بھرپور مون سون ہواؤں سے ٹکراتی ہے، تو ایک خطرناک موسمی نظام بنتا ہے، جو اکثر “سپر سیل” میں تبدیل ہو کر خوفناک “بادل پھٹنے” (Cloudburst) کا سبب بنتا ہے۔ اس اچانک اور شدید بارش سے بعض چھوٹے گلیشیئرز ٹوٹ جاتے ہیں اور ان سے نکلنے والا پانی آس پاس کے برساتی نالوں میں بھر جاتا ہے۔ یہ پانی بابوسر سے چلاس کی طرف بہتے دریا میں شامل ہو کر چند لمحوں میں اس کی سطح بلند کر دیتا ہے۔ اردگرد کے سنگلاخ پہاڑوں سے مٹی اور پتھر بھی اس ریلے میں شامل ہو کر ایک طوفانی سیلابی صورتحال پیدا کرتے ہیں، جس میں دریا اور سڑک کا فرق مٹ جاتا ہے — اور جو بھی اس کی زد میں آتا ہے، بہا لیا جاتا ہے۔
قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ اس تباہی کی پیش گوئی عالمی موسمیاتی اداروں نے تقریباً دو ہفتے پہلے ہی کر دی تھی، لیکن مقامی سطح پر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
سیاحوں کے لیے محفوظ ترین وقت مئی، جون اور جولائی کے پہلے ہفتے تک محدود ہے۔ سیاحت کا شیڈول اپنی سہولت کے بجائے، پہاڑوں کی فطرت اور موسم کی نزاکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائیں۔ یاد رکھیں، یہ علاقہ ہر سال جولائی میں موت کا پیغام لے کر آتا ہے اور اگست میں مزید تباہی پھیلاتا ہے۔
جب بات “بادل پھٹنے” جیسے مہلک واقعات تک پہنچ گئی ہے، تو اب ضروری ہے کہ ہم ان علاقوں کے جغرافیائی خد و خال کو بھی سمجھیں۔ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا لاپروائی کا انجام اکثر ہولناک ہوتا ہے۔
میری سابقہ تحریریں اور سفرنامے گواہ ہیں کہ پچھلے بیس سالوں میں جولائی اور اگست ہمیشہ آفات اور سانحات کا وقت رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم سیکھیں، اور وقت سے پہلے تیاری کریں۔























