قومی تاریخ کا ایک ورق صدر جنرل پرویز مشرف، لیفٹینٹ جنرل احسن حیات اور وزیراعظم شوکت عزیز۔۔ جب موت اُنہیں چھوکر گزرگئی

تحریر: سہیل دانش
پاکستان پر 9 سال تک حکومت کرنے والے جنرل پرویز مشرف نے زندگی میں متعدد بار موت کو جھپٹتے اور خود کو بچتے دیکھا تھا۔ 1961 میں جب آم کی شاخ سے اُلٹے لٹکے ہوئے تھے تو شاخ کے ٹوٹنے سے زمین پر آگرے لیکن مجعزانہ طور پر بچ گئے۔ 1972 میں بحیثیت میجر گلگت سے اسلام آباد جانے والی اُس پرواز میں نشست پر بیٹھ کر جہاز سے اُترگئے کیونکہ اِس جہاز میں برفانی تودوں کی زد میں آنے والے دو سپاہیوں کے جسد خاکی لے جانے کے سبب وزن کے زیادہ ہونے کی وجہ سے جہاز سے اُترنا پڑا اور یہ جہاز آگے جاکر ایک برفانی تودے سے ٹکرایا اُس کا ملبہ آج تک نہ مل سکا اگر 17 اگست 1988 کو صدر ضیاء الحق کے طیارے کو پیش آنے والے واقعہ سے چند روز قبل اُن کا تقرر صدر کے ملٹری کے سیکریٹری کے طور پر ہوتے ہوتے رہ گیا اور یوں جو بریگیڈئیر اس عہدے پر تعینات ہوئے وہ بہاولپور کے قریب سی ون 30 کے حادثے میں دنیا سے رخصت ہوگئے اُن کا جہاز 12 اکتوبر 1999 کو اُس وقت حادثے کا شکار ہوسکتا تھا اگر فوج کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال کر اُسے لینڈ نہ کراتی کیونکہ اُس میں 7 منٹ کا ایندھن باقی رہ گیا تھا، پھر یہ واقعہ اُنہیں اقتدار میں لے آیا۔ 1965 کی جنگ میں دو مرتبہ موت اُنہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہی تھی۔ یہاں بھی وہ بچ نکلے، 14 دسمبر 2003 کو جب وہ کراچی سے واپسی پر چکلالہ ایئرفورس بیس سے ڈھائی کلو میٹر دور آرمی ہاؤس کی طرف جارہے تھے آرمی ہاؤس کے نزدیک جیسے ہی اُنہوں نے ایک پُل پار کیا۔ ایک دھماکے کے ساتھ اُن کی گاڑی کے چارون پہیے سڑک سے اُٹھ گئے اور گاڑی فضا میں اُچھل کر دور تک گئی، گاڑی بم پروف تھی لیکن پھر بھی دھماکے نے تین ٹن والی مرسڈیز کو سڑک سے اُچھال دیا تھا اُنہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا جس پُل کو اُنہوں نے عبور کیا تھا۔ وہاں دھواں اور ملبہ تھا۔ بعد میں معلوم ہوا محض چند سیکنڈ کے فرق سے وہ اِس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے تھے۔ ورنہ گاڑی تباہ شدہ پُل کے نیچے گرتی اور یہاں بچنے کی کوئی اُمید نہ تھی۔ 25 دسمبر 2003 کو جمعہ تعطیل کا دن تھا اُن پر دوسرا حملہ ہوا۔ وہ اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ایک کانفرنس سے خطاب کرکے آرمی ہاؤس روانہ ہوئے چیف سیکیورٹی آفیسر کرنل الیاس ور ADC میجر تنویر کی گاڑی قافلے کے آگے تھی اور وہ اپنے ملٹری سیکریٹری کے ساتھ تیسری گاڑی میں تھے انہوں نے اُسی پل کو عبور کا جو پچھلے دھماکہ کے بعد ابھی تک زیر تعمیر تھا جب وہ ایک پیٹرول پمپ کے سامنے سے گزرنے لگے تو اُنہوں نے ایک سوزوکی کو ایک کونے میں کھڑا دیکھا جنرل کی نظریں اچانک اُس پر پڑیں پھر کیا تھا۔ کانوں کے پردے پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا اور ایک بار پھر بم پروف گاڑی ہوا میں اُچھلی، قیامت ٹوٹ پڑی، ہر طرف دھواں تھا، ملبہ تھا، انسانی اعضاء تھے اور گاڑی کے ٹکڑے، گاڑیاں چکنا چور ہوگئی تھیں، ہر طرف اندھیرا چھاگیا، دوپہر تھی لیکن مغرب کا وقت معلوم ہورہا تھا، ڈرائیور جان محمد نے اضطراری طور پر بریک پر پاؤں رکھ دیا جنرل نے اپنا ریوالور نکال لیا اور ڈرائیور سے کہا ایکسیلیٹر دباؤ۔ اِس اثناء میں گاڑی موت کی کھائی سے نکل کر 100 گز دور ایک اور پیٹرول پمپ کے سامنے پہنچ چکی تھی۔ ایک بار پھر زبردست دھماکہ ہوا پھر قیامت برپا تھی، پہلا دھماکہ بائیں جانب اور اِس بار دھماکہ دائیں جانب ہوا تھا۔ اِس دوران ایک بھاری چیز گاڑی کے اگلے شیشے سے ٹکرائی۔ Bullet Proofہونے کی وجہ سے شیشہ ٹوٹا نہیں لیکن چٹخ گیا تھا ایک بار پھر وہی منظر تھا۔ انسان اعضاء، گرد غبار اور شوروغل تھا پھر سے تاریکی چھاگئی، دوپہر کے وقت معلوم ہورہا تھا نصف شب ہوگئی، گاڑی کے ٹائر پھٹ چکے تھے، اور گاڑی لوہے کے Rims پر چل رہی تھی ایسی گاڑیاں لوہے کے پہیوں پر 35 میل تک جاسکتی ہیں ڈرائیور جان محمد نے پھر بریک لگائی جنرل نے چیخ کر کہا ایکسیلیٹر دباؤ اور یہاں سے نکلو، کار اپنے لوہے کے پہیوں پر آگے بڑھ رہی تھی اِس میں چرخی کی طرح زوردار آوازیں آرہی تھیں لیکن بالآخر وہ آرمی ہاؤس تک پہنچ گئی۔ جنرل کی اہلیہ اور خاتون اول بیگم صبہا مشرف دھماکوں کی آواز سُن کر بھاگتی ہوئی برآمدے میں نکل آئی تھیں جب انہوں نے گاڑی کو لوہے کے پہیوں پر سوراخوں سے چھلنی اور اس پر چسپاں انسانی اعضاء کے لوتھڑوں کو دیکھا تو انہوں نے چیخنا شروع کردیا، وہ بمشکل نارمل ہوئیں۔ اِس واقعہ میں سیکیورٹی کے 14 افراد جان سے گئے وہ سپاہی جو سڑک پر کھلی جگہ کھڑا تھا ٹکرے ٹکڑے ہوکر شہید ہوگیا، ٹریفک رُکا ہوا تھا ورنہ نہ جانے کتنے لوگ جان سے جاتے، تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ ایک اور حملہ آور بھی موجود تھا جسے دوسرے کے بعد تیسرا حملہ کرنا تھا۔ لیکن وہ یہ سمجھ کر مشن کامیاب ہوگیا ہے وہ اِدھر سے اُدھر نکل گیا ورنہ وہ بآسانی جنرل مشرف کو ختم کرسکتا تھا کیونکہ اُس وقت جنرل کی گاڑی انتہائی بری حالت میں تھی اور وہ سیکیورٹی کے بغیر تھے اللہ کے راز اللہ ہی جانتا ہے۔ اِسی طرح کا واقعہ کراچی کے کور کمانڈر اور وائس چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل احسن حیات کے ساتھ بھی پیش آیا، جنرل اپنے دفتر جارہے تھے جب اُن کی گاڑی اُس پل پر پہنچی جو بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع آسودہ حال رہائشی علاقے کلفٹن کوشہر سے ملاتا ہے اُن کے کارواں پر گولیوں کی بوچھاڑ ہوگئی اِس حملے کے پہلے وار کی شدت اُن کے آگے چلنے والی ملٹری پولیس کی گاڑی نے برداشت کی۔ لیکن وہ رُکی نہیں چلتی رہی۔ افسوس کہ کور کمانڈر کی پچھلی جیپ میں سوار ساتوں محافظ اور دو راہگیر ہلاک ہوگئے کور کمانڈر کے ڈرائیور کے ماتھے پر گولی لگی اور وہ وہیں جان سے چلاگیا۔ لیکن یہ قسمت کی بات ہے کہ ہلاک ہونے کے بعد ڈرائیور کے پاؤں نے ایکسیلیٹر کو دبائے رکھا اور کار رُکی نہیں اگر رُک جاتی تو اتنی گولیوں کی بوچھاڑ میں جنرل احسن حیات نہیں بچ سکتے تھے، حملے کے باعث عام شہریوں کی گاڑیاں تتر بتر ہوگئی تھی اور جنرل کی کار کا راستہ صاف تھا شروع میں گاڑی اِدھر اُدھر ڈولنے لگی لیکن ڈرائیور کے پیچھے بیٹھے جنرل احسن کے اے ڈی سی نے آگے جھک کر اسٹیرنگ وہیل سنبھال لیا۔ لیفٹیننٹ جنرل کے قاتلوں نے ہوشیاری سے گھات لگاکر منصوبہ بنایا اور اس پر مہارت سے عمل کیا اِس منصوبے کی ناکامی میں بظاہر جنرل کی خوش قسمتی کا ہاتھ تھا۔ اِن کے قاتلوں نے دھماکہ خیز مواد سڑک پر رکھ دیا تھا جب اُن کی گاڑی اُس کے اوپر سے گزرتی۔ اُسے موبائل فون کا بٹن دباکر اُڑادیا جانا تھا منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ جیسے ہی گاڑی رُکے گی دونوں طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی جائے گی لیکن قسمت کا اپنا ہی منصوبہ تھا۔ دھماکہ کرنے کے لئے موبائل فون نے کام نہیں کیا اور جنرل کی کار بحفاظت دھماکہ خیز مواد کے اوپر سے گزرگئی، گھبراہٹ میں قاتلوں نے پُل کے اوپر سے، گاڑی کے سامنے سے، اور ایک خالی جگہ سے گولیاں چلانی شروع کریں۔ ایک ناکارہ موبائل فون، ایک مردہ ڈرائیور کا ایکسیلیٹر پر پاؤں اور گاڑی کے اسٹیئرنگ کو سنبھالنے کے لئے ADC کی حاضر دماغی اور پھرتی سے اگلی سیٹ پر جاکر گاڑی کو سنبھال لینے کی وجہ سے حملہ آور اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اس طرح یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ 20 جولائی 2003 کو شوکت عزیز نے اپنے حلقہ انتخاب میں جو راولپنڈی سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا، ضمنی انتخاب مین ایک جلسے سے خطاب کیا، ایک کامیاب جلسے کی طرح یہاں بھی کافی دھکم پیل تھی۔ شوکت عزیز کو ایک دِن قبل ہی بم پروف گاڑی دی گئی تھی۔ شوکت عزیز ڈرائیور کی پچھل نشست پر بیٹھے تھے جیسے ہی کار چلنی شروع ہوئی ایک خود کش بمبار لوگوں کی بھیڑ سے باہر نکلا۔ کار کے آگے بائیں دروازے سے چند فٹ دُور رُکا۔ اپنا دایاں ہاتھ اُوپر اُٹھایا اور ایک بہت خوفناک دھماکے کے ساتھ اپنے آپ کو اُڑادیا۔ وہاں موجود ایک ٹیلی ویژن کیمرہ مین جیسے ہی زمین پر گرا اُس نے اپنا کیمرہ وہیں چھوڑ کر جان بچانے کے لئے دوڑ لگادی۔ لیکن کیمرہ جس کا رُخ صحیح سمت میں تھا چلتا رہا اُس میں ہر منظر ریکارڈ ہوتا رہا کیونکہ شوکت عزیز کی کار بم پروف تھی اس لئے اُنہیں ایک “بھد” سے آواز سنائی دی۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ دروازے کے پاس اُنہیں کار کے اندر ایک گرم جھونکا محسوس ہوا۔ جو حدت ایک Dryer کی ہوتی ہے اور یہ ایک سوراخ میں سے آرہی تھی جو دھماکے سے ہوا تھا، دوسری طرف بم دھماکے نے ڈرائیور کے شیشے میں ایک سوراخ کردیا تھا اور بم کا ٹکڑا لگنے سے وہ ہلاک ہوکر سیٹ پر ایک طرف گرگیا تھا شوکت عزیز نے اُسے آواز دے کر ہلایا تو وہ سمجھ گئے کہ وہ اب اِس دنیا میں نہیں ہے جیسے ہی شوکت عزیز کار سے باہر آئے پولیس آفیسر نے انہیں فوراً وہاں سے منتقل کرنے کی کوشش کی تاکہ کوئی دوسرا حملہ آور اُنہیں زندہ دیکھ کر حملہ نہ کردے بعد میں معلوم ہوا کہ دوسرا حملہ آور موجود تھا لیکن وہ گھبرا کر وہاں سے فرار ہوگیا اور اپنے پہلے ساتھی کا حشر دیکھ کر آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرسکا اس طرح شوکت عزیز بال بال بچے گئے اور موت اُنہیں چھوکر گزرگئی۔