پنجاب یونیورسٹی میں فیسوں میں بھاری اضافہ

پنجاب کی نامور تعلیمی ادارہ، پنجاب یونیورسٹی، نے اپنی مختلف ڈگری پروگرامز کی سالانہ فیسوں میں 16 سے 59 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہو چکا ہے، جس کا اطلاق رواں ماہ سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق، ایل ایل ایم پروگرام کی فیس میں سب سے زیادہ یعنی 59 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اب طلبہ کو 7 ہزار 825 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ اسی طرح بی ایس سی، بی کام، بی بی اے اور ایم بی اے پروگرامز کی فیس میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈی فارمیسی کی فیس 18 ہزار روپے سے بڑھا کر 23 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ایل ایل بی کی فیس میں 28 فیصد اور میڈیکل ڈپلومہ کورسز کی فیس میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے فیسوں میں اس غیرمعمولی اضافے پر طلبہ اور والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب مہنگائی پہلے ہی عوام کے لیے ایک بڑا بوجھ بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب، پنجاب یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے نے اسسٹنٹ پروفیسرز (ایڈہاک) کی حیثیت سے تقرری کے فیصلے کو واپس لیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کی کال دے دی ہے۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ انہوں نے تعلیمی قابلیت، خصوصاً پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے تدریسی ذمہ داریوں کے لیے خود کو اہل ثابت کیا تھا، مگر اب ان کی ترقی کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک محنت کا کوئی حاصل نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سنڈیکیٹ کے 3 جولائی 2025 کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور تمام اہل غیر تدریسی عملے کو مساوی مواقع دیے جائیں۔

ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے سامنے علامتی دھرنا دیں گے، اور احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی میں فیسوں میں اضافہ اور عملے کے احتجاج کے باعث تعلیمی ماحول میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔