بابوسر اور شاہراہ قراقرم پر حالیہ کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں مسافر اور سیاح پھنس گئے، جنہیں پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا۔ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدید متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کیا گیا، جس کے دوران محصور افراد کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق، پاک فوج اور گلگت بلتستان اسکاؤٹس کی ٹیمیں پھنسے ہوئے لوگوں کو خوراک، پانی اور طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی مشینری کی مدد سے بند سڑکوں کو کھولنے اور متاثرہ شاہراہوں کو بحال کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں گم شدہ افراد کی تلاش میں روانہ کی جا چکی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر دیامر عطا الرحمان کے مطابق، تھک کے مقام پر ہونے والے کلاؤڈ برسٹ سے 7 سے 8 کلومیٹر طویل بابوسر روڈ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ کئی گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں، اب تک تین افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ایک بزرگ شخص زخمی حالت میں ملا، جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ سیلاب کی وجہ سے بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی متاثر ہو چکی ہیں، جس سے مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ایک گرلز اسکول، دو ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس کیمپ اور 50 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ 15 سے زائد مقامات پر سڑک بلاک ہے اور بابوسر کی چار رابطہ پلیں بھی منہدم ہو چکی ہیں۔
پھنسے ہوئے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے، اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا جا چکا ہے۔ مواصلاتی نظام متاثر ہونے کے باعث سیاح اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چلاس کے تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز سیاحوں کے لیے بلا معاوضہ کھول دیے گئے ہیں۔
یہ ریسکیو آپریشن ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ قدرتی آفات کی صورت میں پاکستان کی مسلح افواج اور سول ادارے ہمہ وقت خدمت کے لیے تیار ہیں۔























