قسمت کا دھنی – محمد میاں سومرو، جیکب آباد کی تقدیر نہ بدل سکا!

تحریر: نعیم اختر
============


سندھ کا قدیم شہر جیکب آباد جہاں کی مٹی میں تہذیب کی خوشبو، ثقافت کی رونق اور سیاست کی حرارت صدیوں سے رچی بسی ہے آج ترقی کے ہر میدان میں محرومی کا نوحہ کَس رہی ہے۔ یہ شہر جس نے سومرو خاندان جیسی بااثر اور قدیم سیاسی خانوادے کو جنم دیا آج بنیادی سہولیات، تعلیم، بجلی ،صحت اور صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہے۔
سومرو قبیلے کا شمار سندھ کے ان چند باوقار اور قدیم خاندانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف خطے میں حکمرانی کی بلکہ علمی و تہذیبی روایتوں کو بھی فروغ دیا۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو گیارہویں صدی میں سومرو خاندان نے عرب حملہ آوروں کے بعد سندھ کی باگ ڈور سنبھالی۔ سومرا سلطنت (1024ء تا 1351ء) سندھ کی پہلی مقامی مسلم حکومت تھی جس نے ٹھٹہ، بدین، عمرکوٹ، سکھر، جیکب آباد اور موجودہ بلوچستان کے کئی علاقوں پر حکمرانی کی۔ سومرو حکمرانوں نے سندھ کی ثقافت، زبان اور خودمختاری کو فروغ دیا اور آج بھی ان کا نام سندھ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔ اسی قبیلے کے ایک چشم چراغ محمد میاں سومرو بھی ہیں جنہیں پاکستانی سیاست میں منفرد حیثیت حاصل ہے ،محمد میاں قسمت کے دھنی تھے کیونکہ ان کے سیاسی سفر میں وہ منازل آئیں جو کسی بھی عام سیاستدان کے خوابوں سے زیادہ ہیں۔وہ نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر رہے،گورنر سندھ کے طور پر خدمات انجام دیں،چیئرمین سینیٹ بنے،نگران وزیراعظم اور پھر نگران صدر پاکستان کے طور پر ملک کا سب سے اعلیٰ منصب سنبھالا،یہ سب کچھ ان کے لیے محض سیاسی کامیابیاں نہیں تھیں، بلکہ ان مناصب کے ذریعے وہ ملکی سطح پر طاقتور ترین افراد میں شامل ہو چکے تھے۔ ان کے پاس قومی خزانہ، پالیسیاں، وسائل، اختیار اور عوامی خدمت کا سنہری موقع تھامگر افسوس… جیکب آباد نظرانداز ہوتا رہا!یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ سوال کرتی ہے:جب محمد میاں سومرو کے پاس اقتدار کے سارے دروازے کھلے تھے تو جیکب آباد کے بند دروازے کیوں نہ کھل سکے؟
یہ شہر آج بھی پینے کے صاف پانی ،بجلی اور صحت جیسی نعمتوں سے محروم ہےگرمی کی شدت کے باعث انسانی جانیں گنوا دیتے ہیں تعلیمی ادارے خستہ حالی کا شکار ہیں،صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور بے روزگاری نے نوجوانوں کے خواب چھین رکھے ہیں محمد میاں سومرو چاہتے تو جیکب آباد کو ایک ماڈل ضلع نہیں بنا سکتے تھے؟
کیا ان کے پاس وسائل کی کمی تھی؟یا وہ صرف اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ کر سیاسی تاثر کو قائم رکھنے میں مگن رہے؟عہدے بڑے، کام چھوٹے!
ان کی سیاسی عظمت کا مقابلہ مشکل ہے مگر عملی خدمات کے میدان میں ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابریے جس طرح کچھ لوگ اقتدار میں آ کر اپنے آبائی علاقوں کو ترقی کی مثال بنا دیتے ہیں، محمد میاں سومرو کے پاس بھی وہی موقع تھا، مگر انہوں نے اپنی جنم بھومی کو وہ حیثیت نہ دی جس کی وہ مستحق تھی۔
تاریخ کا فیصلہ بے رحم ہوتا ہے…تاریخ صرف اقتدار کے ریکارڈ محفوظ نہیں رکھتی وہ خدمت یا خیانت کے فیصلے بھی سناتی ہے۔ محمد میاں سومرو اگر جیکب آباد کے لیے کچھ کر جاتے تو آج ان کا نام سندھ کے ہر دلعزیز خادم کے طور پر لیا جاتا مگر ان کے حصے میں صرف عہدے، پروٹوکول اور سیاسی شہرت آئی — عوامی خدمت کا جذبہ نہیں۔آج جیکب آباد کی گلیوں میں غربت کا راج ہے، گرمی انسانوں کو نگل رہی ہے،کوئی پرسان حال نہیں ۔