بلوچستان میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے کو غیرت کے نام پر سرعام قتل کر دیا گیا۔ اس انسانیت سوز واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس پر عوامی اور حکومتی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈغاگاری میں پیش آیا، جو صوبائی دارالحکومت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مقامی جرگے کے فیصلے پر شیتل نامی لڑکی اور زرک نامی لڑکے کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس سفاک عمل کو لڑکی کے بھائی جلال جلالی نے درجنوں افراد کی موجودگی میں انجام دیا۔
قتل کے بعد بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی ہے کہ واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ ترجمان صوبائی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ویڈیو میں موجود افراد کی شناخت میں مدد کریں اور اس ظلم کے خلاف ریاستی اداروں سے تعاون کریں۔
ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ انسانی حقوق، معاشرتی اقدار اور ریاستی رٹ پر حملہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ جائے وقوعہ کا تعین کر کے ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
حکومت بلوچستان کا مؤقف ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی، اور جو بھی اس ظلم میں ملوث ہے، اسے مثالی سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی درندگی کا سوچ نہ سکے۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ روایتی غیرت کے نام پر کس قدر سفاکیت روا رکھی جا رہی ہے، جس کے خاتمے کے لیے موثر قانون سازی، فوری انصاف اور سماجی شعور کی ضرورت ہے۔























