عراق میں خشک سالی نے تاریخ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، موصل ڈیم کی سطح کم ہونے پر دہائیوں پہلے ڈوبا گاؤں سطح پر آ گیا ہے۔
ڈیم میں پانی نیچے اترنے پر گاؤں کے کھنڈرات اور گلیوں کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دریائے دجلہ و فرات آبی بحران سے دوچار ہیں۔
WWW.JEEVEYPAKISTAN.COM
ڈیم کے سکڑتے ہوئے ذخائر کا براہ راست تعلق خطے کو متاثر کرنے والے خشک سالی کے حالات سے ہے، جس سے عراق میں پانی کے بحران کی شدت کا پتا چلتا ہے، زومر واٹر ڈائریکٹوریٹ کا کہنا تھا کہ پانی کی مسلسل گرتی سطح کی وجہ سے پانی کے کئی اہم منصوبے معطل کرنے پڑے۔
پرانا گاؤں سطح آب پر نمودار ہونے کے بعد مکین ایک طرف اس زیر آب علاقے سے وابستہ اپنے بچپن کی یادیں تازہ کر رہے ہیں، اور دوسری طرف پانی کے غائب ہونے کے خدشات کا اظہار بھی کر رہے

ایک طرف حکام آبی ذخائر کم ہونے سے پریشان ہیں تو دوسری طرف سیاحت کے شعبے میں جان پڑ گئی ہے، سیاح کھنڈرات کا نظارہ کرنے دور دور سے پہنچ رہے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ 45 برس پہلے اس ڈیم کی تعمیر کے بعد زومر گاؤں زیر آب چلا گیا
Courtesy Ary News Urdu























