پاکستان میں مون سون کا چوتھا اور شدید ترین سلسلہ اتوار، 21 جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس سے پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے کئی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ سلسلہ موسلادھار بارشوں، آندھی، شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام اضلاع کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
خطرے کی نشانیاں: دریا، نالے اور نشیبی علاقے زیرِ آب
دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر درمیانے اور بعض مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب آ چکا ہے۔
کالاباغ میں پانی قریبی دیہاتوں تک پہنچ چکا ہے، جہاں ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔
ریسکیو اداروں نے اب تک 223 افراد اور 162 مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔
تباہی کی موجودہ صورتحال
پی ڈی ایم اے کے مطابق 25 جون سے اب تک 123 افراد جاں بحق اور 462 زخمی ہو چکے ہیں۔
70 سے زائد اموات صرف پچھلے دو دن میں رپورٹ ہوئیں۔
150 سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اموات کی وجوہات میں آسمانی بجلی، کرنٹ لگنا، ڈوبنا اور مکان گرنا شامل ہیں۔
چکوال اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی سے شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
ریسکیو اقدامات اور عوام سے اپیل
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق:
راولپنڈی، جہلم اور چکوال سمیت پوٹھوہار کے علاقوں سے 1000 سے زائد افراد ریسکیو کیے گئے۔
مقامی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ خطرناک علاقوں سے بروقت انخلا یقینی بنائیں اور ہنگامی مراکز فعال رکھیں۔
عوام سے گزارش ہے کہ ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کریں، اور کسی بھی ہنگامی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آئندہ دنوں کی پیش گوئی
20 سے 26 جولائی کے دوران ملک بھر میں تیز بارشوں کا سلسلہ متوقع ہے۔
سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان اور کشمیر میں درجنوں اضلاع ہائی رسک زون قرار دیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے شہری سیلاب، نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کے خطرے کی پیش گوئی کی ہے۔























