لاہور اور فیصل آباد میں پیش آنے والے حالیہ برڈ اسٹرائیک کے واقعات نے ایک بار پھر فضائی سفر کی حفاظت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لاہور میں کراچی جانے والی نجی ایئرلائن کی پرواز رن وے پر ٹیک آف سے قبل پرندے سے ٹکرا گئی، جس پر طیارے کو فوراً واپس پارکنگ پر لے جایا گیا اور انجینئرنگ ٹیم نے تفصیلی معائنہ شروع کر دیا۔
اسی طرح فیصل آباد ایئرپورٹ پر دبئی سے آنے والے طیارے کے انجن سے پرندہ ٹکرا گیا، جس سے انجن میں فنی خرابی پیدا ہوئی۔ پائلٹ نے مہارت کے ساتھ طیارے کو بحفاظت اتار لیا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔ ان دونوں واقعات کے باعث پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
یہ پہلا موقع نہیں، اس سے قبل بھی لاہور سے اسکردو جانے والی ایک پرواز پرندے سے ٹکرا گئی تھی، جس کے نتیجے میں انجن کے بلیڈ متاثر ہوئے اور پرواز کو منسوخ کرنا پڑا۔
ان بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فضائی حدود میں طیاروں کی حفاظت کیلئے جامع حکمت عملی اپناتے ہوئے گرینڈ آپریشن کے احکامات جاری کیے۔ اس سلسلے میں لاہور کے کئی علاقوں کو “نو برڈ زون” قرار دینے، ماحولیاتی ضوابط پر سخت عمل درآمد، اور وائلڈ لائف فورس کو متحرک کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہوائی اڈوں کے قریب کوڑا کرکٹ پھینکنے، غیر قانونی پولٹری فارمز، بیکریوں اور ذبح خانوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ چمڑے کی فیکٹریوں پر بھی ماحولیاتی قوانین لاگو کیے جائیں گے۔ وائلڈ لائف رینجرز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے، خلاف ورزی پر سخت سزائیں، جرمانے اور گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔
یہ اقدامات فضائی سفر کو محفوظ بنانے اور مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔























