مصنوعی ذہانت سے بنے بینڈ نے میوزک انڈسٹری میں ہلچل مچا دی، اسپاٹیفائی پر 10 لاکھ سے زائد اسٹریمز حاصل کر لیں۔
حال ہی میں “ویلویٹ سن ڈاؤن” کے نام سے سامنے آنے والے ایک بینڈ نے اسپاٹیفائی پر ایک ملین سے زیادہ پلے حاصل کر کے دھوم مچا دی۔ ابتدا میں اسے ایک عام موسیقی بینڈ سمجھا گیا، مگر بعد میں انکشاف ہوا کہ اس کی تمام تر تخلیق—چاہے وہ گانے ہوں یا تصویری مواد—مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔
یہ خبر سامنے آتے ہی میوزک انڈسٹری میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر صارفین کو واضح طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے کہ وہ جو موسیقی سن رہے ہیں، وہ انسانی فنکاروں کی ہے یا اے آئی سے تیار کردہ۔
اس بینڈ نے جون میں “فلوٹنگ آن ایکوز” اور “ڈسٹ اینڈ سائلنس” کے نام سے دو البمز جاری کیے، جن کا انداز مشہور امریکی فولک گروپ “کروس بی، اسٹلس، ناش اینڈ ینگ” سے مشابہت رکھتا تھا۔ ابتدا میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ گانے انسانوں نے بنائے ہیں، مگر بعد میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ یہ پورا منصوبہ مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم “سنو” کے ذریعے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد اسے ایک فنکارانہ چال (آرٹ ہوکس) بھی کہا گیا۔
بینڈ نے بعد میں ایک بیان میں اعتراف کیا کہ یہ ایک اے آئی پروجیکٹ ہے۔ اسپاٹیفائی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کا پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ موسیقی کو کوئی ترجیح نہیں دیتا، اور تمام مواد متعلقہ لائسنس یافتہ تھرڈ پارٹی اداروں کے ذریعے اپلوڈ کیا جاتا ہے۔























