اسلام آباد میں بارش کے بعد ترقیاتی منصوبوں کی حقیقت بے نقاب

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی مبینہ ناقص منصوبہ بندی اور معیار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بارش کے نتیجے میں دارالحکومت کے مختلف حصوں میں نئی تعمیر شدہ سڑکیں اور انٹرچینج منصوبے متاثر ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق ایف-ایٹ انٹرچینج، جسے 45 دن کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا تھا اور جسے حکومت نے ترک صدر رجب طیب اردگان کے نام سے منسوب کیا تھا، حالیہ موسلادھار بارش میں شدید نقصان کا شکار ہو گیا۔ ایف-ایٹ سے نائنتھ ایونیو کی جانب جانے والی سڑک کا ایک حصہ بیٹھ گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سی ڈی اے کے اہلکار اور افسران سڑک کی بحالی میں مصروف ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ سڑک صرف چھ ماہ قبل مکمل ہوئی تھی اور یہ تیسری بار ہے کہ بارش کے بعد اس میں نقص ظاہر ہوا ہے۔

علاوہ ازیں، اسلام آباد کے ای-الیون فلائی اوور کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔ منظر عام پر آنے والی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلائی اوور کی ایک طرف سڑک میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جنہیں وقتی طور پر مٹی ڈال کر چھپانے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح، جناح اسکوائر نامی منصوبہ بھی بارش کی شدت برداشت نہ کر سکا۔ یہ منصوبہ 4.2 ارب روپے کی لاگت سے صرف 84 دن میں مکمل کیا گیا تھا، مگر مون سون کی پہلی بارش میں ہی اس کا ایک اہم حصہ بیٹھ گیا۔ خاص طور پر سرینہ چوک سے آبپارہ کی طرف جانے والی سڑک دو گھنٹے کی بارش کے بعد زمین میں دھنس گئی۔ یاد رہے کہ اس منصوبے کا افتتاح اسی سال بڑے جوش و خروش کے ساتھ کیا گیا تھا اور اسے کامیاب منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔

ان واقعات نے نہ صرف شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ تعمیراتی معیار اور نگرانی کے عمل پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں منصوبے مکمل کرنے کے دعوے وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، لیکن طویل مدتی پائیداری کے بغیر یہ صرف وسائل کا ضیاع ہیں۔