نئی سپرمین فلم پر اسرائیل مخالف مناظر کے الزامات

ہالی ووڈ کی مشہور زمانہ سپرمین فرنچائز کی تازہ ریلیز کردہ فلم ایک نئی بحث کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ناظرین اور تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ فلم میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں مناظر دکھائے گئے ہیں۔

یہ فلم جولائی کے اوائل میں ریلیز ہوئی، جس کی کہانی دو فرضی ریاستوں کے درمیان جاری ایک شدید جنگ پر مبنی ہے۔ ان میں سے ایک ریاست کو طاقتور اور عسکری طور پر مضبوط جبکہ دوسری کو کمزور اور مظلوم دکھایا گیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے ’مڈل ایسٹ آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق، فلم میں طاقتور ریاست کو امریکا سمیت بڑی عالمی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے، جو اپنی جدید جنگی ٹیکنالوجی کے ذریعے کمزور ریاست پر حملہ کرتی ہے۔

ترکی کے میڈیا نیٹ ورک ’ٹی آر ٹی‘ کے مطابق، فلم میں کمزور ریاست کے نہتے شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں پر ہونے والے مظالم کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کئی ناظرین کا کہنا ہے کہ فلم کے پلاٹ، مکالمے اور مختلف مناظر اسرائیل اور فلسطین کے موجودہ تنازعے کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں، تاہم فلم کے تخلیق کاروں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فلم کی کہانی مکمل طور پر خیالی ریاستوں پر مبنی ہے اور اس کا کسی موجودہ ملک یا تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

پروڈکشن ٹیم کا کہنا ہے کہ فلم کا مقصد کسی سیاسی پیغام کو فروغ دینا نہیں بلکہ ایک فرضی دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کو دکھانا ہے۔