پنجاب بھر میں مون سون کی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے مختلف شہروں میں تباہی کی نئی داستانیں رقم کر دی ہیں۔ جہلم، چکوال، لاہور، فیصل آباد اور دیگر علاقوں میں طوفانی بارشوں سے متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
چکوال اور جہلم میں شدید بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس کے باعث پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ چکوال کے علاقوں کلر کہار، وہالی زیر اور چوآسیدن شاہ میں 300 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جب کہ بعض مقامات پر بارش کی شدت کلاؤڈ برسٹ کے مترادف رہی۔ صرف چکوال میں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
متعدد دیہات اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں۔ چکوال کے مضافاتی علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص اور بچہ جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ ڈھوک مستانی، پادشہان، اور رجروڑ نکہ خاص جیسے علاقوں میں لوگ پانی میں پھنس گئے، جنہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔
چکلالہ، بوکرا، اور گولڑہ کے نشیبی علاقوں میں بھی بارش کے باعث سیلابی پانی بھر چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ ریسکیو اداروں نے متاثرین کو لائف جیکٹس فراہم کر دی ہیں جبکہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے چالیس افراد کو ریلے سے بحفاظت نکالا گیا۔
لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، اور شیخوپورہ جیسے شہروں میں بھی شدید بارشوں کے باعث حادثات پیش آئے۔ مختلف علاقوں میں دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں مجموعی طور پر 28 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں لاہور کے 12، فیصل آباد کے 8، شیخوپورہ کے 3، اور اوکاڑہ کے 2 شہری شامل ہیں۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ نے بتایا کہ ضلع بھر میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے سول انتظامیہ اور اسپیشل فورسز مل کر کام کر رہے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، واسا، میونسپل کارپوریشنز، اور ریسکیو 1122 کو چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر مقامی حکام سے رابطہ کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے جس کے باعث مزید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور بلند علاقوں میں رہائش کی ہدایت کی گئی ہے۔























