وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے بعد صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر گئی۔ نالہ لئی میں طغیانی کے باعث حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، جبکہ گوالمنڈی کے پل پر خطرے کے سائرن بجا دیے گئے تاکہ شہریوں کو ممکنہ خطرات سے خبردار کیا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا کی رپورٹ کے مطابق، نالہ لئی میں گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح 15 فٹ تک جا پہنچی ہے، اور اگر یہ سطح 20 فٹ تک جا پہنچی تو قریبی آبادیوں کو فوری خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کٹاریاں پل پر پانی کی سطح 13 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بارش کے پانی نے نالہ لئی کو فلش فلڈ میں تبدیل کر دیا ہے اور اس سے منسلک دیگر چھوٹے نالوں میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔
مزید یہ کہ شہر کے متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے سینکڑوں افراد گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔ نقل مکانی کا عمل بھی رکاوٹ کا شکار ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مہر کالونی، ڈھوک حسو، پیر ودھائی، خیابان سرسید، فوجی کالونی اور ڈھوک مٹکیال شامل ہیں۔ کئی گھروں میں بارش کا پانی داخل ہو چکا ہے، جبکہ کچھ مقامات پر چھوٹے پل مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکے ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق، شدید بارشوں کے باعث دریائے سواں میں بھی طغیانی پیدا ہو گئی ہے۔ مری جانے والی جی ٹی روڈ پر سالگراں کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کے نتیجے میں سڑک کا ایک حصہ متاثر ہوا اور ٹریفک معطل ہو گئی۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور ٹریفک پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاکہ امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں، سرکاری احکامات پر عمل کریں اور ممکن ہو تو بلند مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہ سکیں۔























