خلائی تحقیق کی معروف نجی کمپنی نے امریکی ریاست فلوریڈا سے اپنے طاقتور فالکن نائن راکٹ کی مدد سے اسرائیل کا نہایت خفیہ مواصلاتی سیٹلائٹ ’’ڈرور ون‘‘ کامیابی سے مدار میں بھیج دیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ مشن ’’کمرشل جی ٹی او ون‘‘ کے عنوان سے شروع کیا گیا تھا۔ اس سیٹلائٹ کو اسرائیل ایرو اسپیس صنعتوں کی جانب سے تیار کیا گیا ہے، جس کا وزن ساڑھے چار ٹن ہے۔
یہ مکمل طور پر جدید ’’ڈیجیٹل فون‘‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کی چوڑائی تقریباً سترہ اعشاریہ آٹھ میٹر جبکہ ڈشوں کا حجم دو اعشاریہ آٹھ میٹر ہے۔
اس سیٹلائٹ کی عملی مدت پندرہ برس رکھی گئی ہے۔ اس مشن کا مقصد اسرائیل کو اعلیٰ درجے کی قومی مواصلاتی خود مختاری فراہم کرنا، سیکورٹی کو مضبوط بنانا اور اسٹریٹجک سطح پر ملک کو خود کفیل بنانا ہے۔
یہ جدید سیٹلائٹ انتہائی برق رفتار ڈیجیٹل ڈیٹا منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں ڈیٹا کو اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ایپلی کیشنز کو اپ ڈیٹ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کی بدولت اسرائیل کے قومی مواصلاتی نظام میں خود مختاری بڑھے گی اور خفیہ معلومات کی ترسیل مزید محفوظ ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ’’ڈرور ون‘‘ کے بعد اسرائیل اگلے چند برس میں ’’ڈرور ٹو‘‘ نامی سیٹلائٹ بھی خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔























