صوبائی دارالحکومت لاہور میں تیز اور طوفانی بارش کے باعث مسافروں سے بھرے تین جہازوں کو لینڈنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایئر ٹریفک کنٹرول نے ان پروازوں کو لینڈنگ کی بجائے فضا میں چکر کاٹنے کی ہدایت کی تاکہ موسم بہتر ہونے تک کوئی حادثہ پیش نہ آئے۔
ذرائع کے مطابق جیسے ہی دبئی، جدہ اور دیگر شہروں سے لاہور آنے والے طیارے شہر کی حدود میں پہنچے تو بارش نے شدت اختیار کرلی جس کی وجہ سے ایئرپورٹ پر لینڈنگ ممکن نہ رہی۔ پی آئی اے کی دبئی سے آنے والی پرواز کے ساتھ ساتھ جدہ سے آنے والی غیر ملکی ایئر لائن کو بھی فضا میں ہی ہولڈ کروا دیا گیا جبکہ ایک اور غیر ملکی ایئرلائن کی فلائٹ کو بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ رات طیاروں کی لینڈنگ شدید بارش کی وجہ سے کافی دیر تک مؤخر رہی۔ لاہور میں مون سون کا تیسرا سپیل گزشتہ رات سے جاری ہے جس کے نتیجے میں شہر بھر میں تیز بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
تیز بارش سے کئی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ بعض مقامات پر پانی کھڑا ہونے سے شہریوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ ریسکیو کے مطابق بارش کے دوران مختلف حادثات میں جان لیوا واقعات بھی پیش آئے۔ لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں کرنٹ لگنے سے بھائی بہن جان بحق ہوئے، شیراکوٹ میں ایک 20 سالہ نوجوان جبکہ بہاولنگر کے منچن آباد میں مدرسے کی چھت گرنے سے دو طالب علم جاں بحق ہوگئے۔ مدینہ ٹاؤن میں بھی کرنٹ لگنے سے دس سالہ بچہ جاں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
واسا کے مطابق پانی والا تالاب میں 171 ملی میٹر، اقبال ٹاؤن میں 169 ملی میٹر، تاج پورہ میں 167 ملی میٹر، مغلپورہ میں 135 اور لکشمی چوک میں 133 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بارش کے باعث پنجاب کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے حادثات میں اب تک 92 افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تیز بارشوں کا امکان ہے اور مون سون کی یہ لہر 17 جولائی تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے جس پر این ڈی ایم اے نے پیشگی الرٹ جاری کر دیا ہے۔























