ہوم جمالو (مکمل ورژن) | Lyrical Video | موہت لالوانی | سندھی پاپ


ہوم جمالو (مکمل ورژن) | Lyrical Video | موہت لالوانی | سندھی پاپ

ہوم جمالو (مکمل ورژن) | Lyrical Video | موہت لالوانی | سندھی پاپ
Ho Jamalo ( Full Version ) | Lyrical Video | MOhit lalwani | Sindhi Pop
=========================
اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی تحقیقات میں پیشرفت
اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے، ان کی موت 7 اکتوبر 2024ء کو ہوئی۔

اس حوالے سے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حمیرا اصغر کا فون آخری بار 7 اکتوبر کو شام 5 بجے تک استعمال ہوا، انہوں نے 7 اکتوبر 2024ء کو 14 افراد سے رابطہ کیا۔

تفتیشی حکام نے کہا کہ اداکارہ کے فلیٹ سے 3 موبائل فونز، ٹیبلیٹ، ڈائری اور ڈاکیومینٹس ملے ہیں، حمیرا اصغر کے نام پر 3 سمز تھیں، تینوں سمز فون میں لگی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے
ڈی آئی جی ساؤتھ نے حمیرا اصغر کی موت کی ممکنہ تاریخ بتا دی
حمیرا اصغر کی موت کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم
حمیرا اصغر 9 ماہ سے غائب تھی: اداکارہ کے اسٹائلسٹ کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ حمیرا اصغر کے 2 موبائل فونز پر کوئی پاسورڈ نہیں تھا جبکہ ڈائری میں ایک موبائل فون اور ٹیبلیٹ کا پاسورڈ لکھا ہوا تھا۔

تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ حمیرا اصغر کے تینوں موبائل فونز میں 2 ہزار سے زائد نمبرز ہیں، اداکارہ کے 75 نمبر سے مسلسل رابطے کی شواہد ملے ہیں۔

واضح رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔
==============

حیدر آباد۔ ٹنڈوالہ یار، اندرون سندھ کے مختلف شہروں بالخصوص حیدر آباد میں بارشوں سے تباہی انسانی جانوں کی ہلاکت پر ندرون سندھ آرگنائزنگ کمیٹی ایم پی پی کا اظہار افسوس
بلدیاتی اور منتخب نمائندوں کو عوامی خدمت کرنے اور سیاست کے بجائے خدمت پر توجہ دیں۔ بیڈ گورننس نے عوام کا جینا محال کردیا۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کی اندرون سندھ آرگنائزنگ کمیٹی نے حیدر آباد۔ ٹنڈوالہ یار، اندرون سندھ کے مختلف شہروں بالخصوص حیدر آباد میں بارشوں سے تباہی انسانی جانوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلدیاتی قیادت، حکومت سندھ کی نا اہلی اور بروقت انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے حیدر آباد اور ٹنڈوالہ یار میں سیلابی منظر کو شدید نا اہلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیڈ گورننس کی وجہ سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مئیر حیدر آباد، ٹی ایم سیز اور شہری انتظامیہ کہاں تھی؟ لوگوں کے گھر تالاب بن گئے۔ نالوں اور نشیبی علاقوں کو اگر نکاسی آب اور صفائی کا انتظام کرکے محفوظ کیا جا سکتا تھا۔ کمیٹی نے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی اور متاثرہ خاندانوں کوامداد دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جاں بحق ہونے والے خاندانوں اور انکے لواحقین سے دلی تعزیت اور مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی ہے۔ بلدیاتی اور منتخب نمائندوں کو عوامی خدمت کرنے اور سیاست کے بجائے خدمت پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔