پاکستانی شوبز میں پروڈکشن ہاؤسز کی غیر ذمہ دارانہ رویے، فنکاروں کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر اور ان کی تذلیل جیسے مسائل ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ سینئر اداکار، ہدایت کار اور مصنف محمد احمد کے بعد اب مزید فنکار بھی اس معاملے پر آواز اُٹھا رہے ہیں۔
حالیہ دنوں اداکارہ حمیرا اصغر کی افسوسناک موت نے پوری انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ زندگی کے آخری دنوں میں شدید مالی مشکلات کا شکار تھیں۔
محمد احمد نے انڈسٹری کے اس چمک دمک والے پردے کے پیچھے چھپے ظلم و ناانصافی کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ فنکاروں کو اپنے محنتانہ لینے کے لیے بار بار منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔
اس موضوع پر اب احمد علی بٹ اور یاسر حسین نے بھی انسٹاگرام پر آواز بلند کی ہے۔ دونوں اداکاروں نے اپنی انسٹااسٹوریز میں ادائیگیوں میں تاخیر پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

یاسر حسین نے اپنی پوسٹ میں حمیرا اصغر کا ذکر کرتے ہوئے مداحوں سے ان کے لیے دعا کی اپیل کی اور ساتھ ہی کہا کہ زندہ فنکاروں کی قدر کی جائے اور ان کا حق وقت پر ادا کیا جائے تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
احمد علی بٹ نے لکھا کہ پاکستانی انڈسٹری میں پروڈکشن ہاؤسز، چینلز اور اسپانسرز عموماً 60 سے 90 دنوں میں ادائیگی کی یقین دہانی کراتے ہیں لیکن شاذ و نادر ہی کوئی اپنا وعدہ پورا کرتا ہے۔
انہوں نے فنکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آمدنی کے لیے یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کا رخ کریں اور خود مختار ہو کر کام کریں تاکہ ان مسائل سے بچا جا سکے۔
اداکارہ ارجمند رحیم نے بھی ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انڈسٹری میں ادائیگیوں کی تاخیر کے مسئلے کی تصدیق کی۔
























