برطانیہ نے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے ای ویزہ کی نئی سہولت متعارف کرا دی ہے، جس کے بعد 15 جولائی سے زیادہ تر طلبہ اور پروفیشنلز کو پاسپورٹ پر روایتی اسٹیکر ویزہ لگوانے کی ضرورت نہیں رہی۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت نے ویزہ کے روایتی کاغذی طریقہ کار کی جگہ جدید ڈیجیٹل امیگریشن اسٹیٹس یعنی ای ویزہ متعارف کرایا ہے۔ ای ویزہ میں فرد کے برطانیہ میں قیام اور آمد و رفت کی اجازت اور اس سے متعلق شرائط کا ریکارڈ آن لائن محفوظ ہوتا ہے، جسے یو کے ویزہ اینڈ امیگریشن اکاؤنٹ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ نظام برطانیہ کے امیگریشن سسٹم کو مزید محفوظ، آسان اور جدید بنانے کے لیے اہم قدم ہے۔
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ اس تبدیلی سے طلبہ اور پروفیشنلز کے لیے اپنی شناخت اور ویزہ اسٹیٹس ثابت کرنا آسان ہو جائے گا اور انہیں پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے کی سہولت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ای ویزہ پر منتقلی سے کسی شخص کے امیگریشن اسٹیٹس یا برطانیہ میں قیام کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جلد ہی یہ سہولت باقی تمام ویزہ کیٹیگریز پر بھی لاگو کر دی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ ای ویزہ کا اطلاق ان ویزہ کیٹیگریز پر کیا جا رہا ہے جن میں طلبہ، گیارہ ماہ کی قلیل مدتی تعلیم، گلوبل بزنس موبیلٹی (جیسے سینئر یا ماہر کارکن، گریجویٹ ٹرینی، یو کے ایکسپینشن ورکر، سروس سپلائر)، گلوبل ٹیلنٹ، بین الاقوامی کھلاڑی، سکلڈ ورکر (بشمول ہیلتھ اینڈ کیئر شعبہ) اور عارضی کام جیسے چیریٹی ورک، کریئیٹو ورک، انٹرنیشنل ایگریمنٹ اور یوتھ موبیلٹی سکیم شامل ہیں۔
ای ویزہ رکھنے والے اپنے پاسپورٹ کو اپنے UKVI اکاؤنٹ سے جوڑ کر بین الاقوامی سفر مزید آسان بنا سکیں گے اور “ویو اینڈ پروو” سروس کے ذریعے اپنے آجر یا مکان مالک کو اپنا امیگریشن اسٹیٹس محفوظ طریقے سے دکھا سکیں گے۔ تاہم ڈپینڈنٹ درخواست دہندگان یا وہ لوگ جو تعلیم یا پیشہ ورانہ کام کے علاوہ کسی دوسری کیٹیگری جیسے جنرل وزیٹر ویزہ کے لیے اپلائی کریں گے، ان کے لیے اب بھی فزیکل اسٹیکر ویزہ درکار ہوگا۔ جن کے پاس پہلے سے کارآمد اسٹیکر ویزہ موجود ہے، ان کے لیے بھی کوئی نئی کارروائی ضروری نہیں۔























