اسلام آباد کے مارگلہ ایونیو پر حال ہی میں نصب کی جانے والی نئی یادگار پر ہونے والی سوشل میڈیا تنقید کے بعد انتظامیہ نے اسے کپڑے سے ڈھانپ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے سخت اعتراضات کے بعد یادگار کی تنصیب کا عمل اچانک روک دیا گیا ہے، جبکہ میڈیا پر اس کی کوریج پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
اس معاملے پر صحافی مہوش خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بڑھتے اعتراضات کے بعد سی ڈی اے نے مجسمہ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور موقع پر عملہ بھی موجود ہے جو یادگار کو ہٹانے کے کام میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سی ڈی اے اتنی غیر ذمہ دار ہے کہ بغیر کسی حتمی منظوری کے ایسے ماڈل لگائے جاتے ہیں اور حکام کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی؟
یاد رہے کہ مارگلہ ایونیو کے چوک پر نصب کیے گئے اس فن پارے میں دو سنہرے انسانی ہاتھ فضا میں بلند دکھائے گئے ہیں جن کے درمیان ایک سفید گیند نما چیز رکھی گئی تھی۔ اس منفرد ڈیزائن نے عوام کی توجہ تو کھینچی لیکن مختلف آرا اور سوالات نے اسے متنازع بنا دیا۔
معروف اینکر نادیہ مرزا نے بھی اسے دیکھ کر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ دفتر آتے ہوئے اس مجسمے پر نظر پڑی لیکن سمجھ نہیں آیا کہ یہ دراصل ہے کیا۔
کچھ صارفین کا خیال ہے کہ اس یادگار کا مقصد پاکستان کی طاقت اور خودداری کو ظاہر کرنا ہے، جبکہ کئی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پر وضاحت دی جائے۔ صحافی نادر بلوچ کے مطابق یادگار پر جاری کام کو اچانک روکا گیا ہے اور میڈیا کو کوریج سے روک دیا گیا ہے، تاہم اس کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔
کئی سوشل میڈیا صارفین نے یادگار کے پیغام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس شاہکار کو مکمل کیا جانا چاہیے کیونکہ اس میں قوم کے روشن مستقبل کی جھلک ہے، لیکن میڈیا بلیک آؤٹ پر اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے۔























