حالیہ مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی وجہ سے تونسہ بیراج پر درمیانے درجے جبکہ گڈو اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر فلڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ ایریگیشن کے مطابق کشمور کے علاقے میں گڈو بیراج پر پانی کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے جس کے بعد درمیانے درجے کے سیلاب کا اعلان کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تونسہ بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 4 لاکھ 26 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ تربیلا ڈیم کی سطح 1527 فٹ اور منگلا ڈیم کی 1184 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تونسہ بیراج میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کنٹرول روم کے اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 55 ہزار 283 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 15 ہزار 558 کیوسک ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں 13 ہزار 190 کیوسک کا اضافہ ہوا ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دریائے سندھ کے کنارے واقع علاقوں راجن پور، گھوٹکی اور تونسہ میں پانی کی سطح بڑھنے سے کئی بستیاں زیر آب آ گئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے مکین محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ محکمہ ایریگیشن کے حکام کے مطابق حالیہ بارشوں کے سبب دریا میں پانی کی سطح مزید بڑھ سکتی ہے۔ تونسہ بیراج سے نکلنے والی نہروں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق تمام ضروری اقدامات پیشگی مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریسکیو 1122، محکمہ بلدیات، زراعت، آبپاشی، صحت، جنگلات، لائیو اسٹاک اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام محکمے ہائی الرٹ پر ہیں۔
ضلع انتظامیہ نے دریائی کناروں پر آباد لوگوں کو احتیاط برتنے اور فوری طور پر محفوظ علاقوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری طرف لاہور، اوکاڑہ، بہاولنگر، منچن آباد اور رینالہ خورد سمیت کئی شہروں میں بھی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔























