
نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر
پاکستان میں شلوار قمیض نا صرف قومی لباس ہے بلکہ اس کی جڑیں ہماری ثقافت، تاریخ اور تہذیب میں گہری پیوست ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، حالیہ واقعہ نے اس قومی لباس کو ایک بار پھر امتیازی سلوک کا نشانہ بنا دیا ہے۔
گزشتہ دنوں کراچی کے ایک معروف ریسٹورنٹ میں شرمناک واقعہ پیش آیا، جب سینئر وکیل عبداللطیف بلوچ اور ان کے دوستوں کو صرف اس بنیاد پر ریسٹورنٹ میں داخلے سے روک دیا گیا کہ وہ “شلوار قمیض” میں ملبوس تھے۔ انتظامیہ نے یہ کہہ کر انہیں ٹوک دیا کہ “ہم شلوار قمیض پہننے والوں کو کھانا نہیں دیتے، یہ چیپ ڈریس ہے!”
وکیل عبداللطیف بلوچ نے جب اس تعصب پر مبنی رویے کے خلاف آواز بلند کی تو بجائے معذرت کے، ریسٹورنٹ منیجر اور عملے نے توہین آمیز انداز اختیار کیا، دھمکیاں دیں اور بالآخر ان سے بدتمیزی کر کے باہر نکال دیا۔
انصاف کے متلاشی وکیل نے ہوٹل انتظامیہ کے خلاف ایک کروڑ روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ لیکن افسوس، کئی روز گزرنے کے باوجود اب تک کوئی عدالتی کارروائی نہ ہو سکی۔ یہ تاخیر اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ طاقتور طبقہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے میں آزاد ہے۔
واقعہ محض ایک فرد کی توہین نہیں،یہ معاملہ صرف ایک وکیل یا چند افراد کا نہیں بلکہ یہ ہر اس پاکستانی شہری کی تذلیل ہے جو اپنی تہذیب، روایات اور قومی لباس سے وابستہ ہے۔ اگر شلوار قمیض پہننے والا فرد “چیپ” کہلائے گا تو پھر سوال یہ ہے کہ “قومی وقار” اور “ثقافتی شناخت” کی حفاظت کون کرے گا،طبقاتی امتیاز یا ذہنی غلامی،یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں پروان چڑھتی اس ذہنی غلامی کی بھی نشاندہی کرتا ہے جس میں مغربی لباس کو معیار، اور قومی لباس کو کم تر تصور کیا جا رہا ہے۔ شلوار قمیض کو چیپ قرار دینا دراصل پوری قوم کی توہین ہے۔عوام الناس کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور
عدالت واقعے کا فوری نوٹس لے اور ہوٹل انتظامیہ کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پاکستان میں قومی لباس کی تضحیک کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔
انسانی عزت اور مساوات کے اصولوں پر مبنی تربیت ریسٹورنٹ عملے کو دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسا امتیازی سلوک نہ ہو۔
شلوار قمیض اگر “چیپ” ہے تو پاکستان کا ہر شہری فخر سے یہ چیپ پہن کر اپنے سینے سے لگا کر جیتا ہے — اور جیتتا رہے گا۔























