لیاری میں عمارت گرنے کے سانحے پر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پولیس نے سٹی کورٹ میں پیش کر دی ہے، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے چھ ڈائریکٹرز سمیت چودہ افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق 1986 میں اس عمارت کے مالک نے دو حصوں پر مشتمل گراؤنڈ پلس پانچ منزلہ عمارت تعمیر کی تھی جو کافی عرصے سے خستہ حال اور رہائش کے لیے غیر محفوظ تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس بی سی اے کے افسران کو 2022 سے عمارت کی خراب حالت کا علم تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے کوئی موثر کارروائی نہیں کی اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کوتاہی برتی، جس کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
پولیس نے مقدمہ لوکل گورنمنٹ، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے افسر کی مدعیت میں درج کیا ہے جس میں موجودہ اور سابق ایس بی سی اے افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں عمارت کے مالک سمیت دیگر افراد پر قتل بالسبب، غفلت اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔
پولیس نے گرفتار ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا، جس پر عدالت نے ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ گرفتار ہونے والوں میں ایس بی سی اے کے پانچ ڈائریکٹر، دو ڈپٹی ڈائریکٹر، ایک انسپکٹر اور عمارت کا مالک شامل ہیں۔
دوران سماعت ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس بی سی اے کے پاس عمارت کی تمام تعمیراتی تفصیلات موجود تھیں اور عمارت کو خطرناک قرار دینے کا نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری کیا جا چکا تھا۔ وکلا نے کہا کہ اگر مالک کو خطرے کی شدت کا اندازہ ہوتا تو وہ اپنے اہل خانہ کو ہرگز اس عمارت میں نہ رکھتا کیونکہ واقعے میں عمارت مالک کی نواسی اور پوتی بھی جان کی بازی ہار گئیں۔
وکلاء کا کہنا تھا کہ مقدمے میں شامل دفعات قابلِ ضمانت ہیں اور پولیس کے پاس ملزمان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہیں۔ ان کے مطابق کچھ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ بھی دیا گیا جبکہ کسی وزیر کو شاملِ تفتیش تک نہیں کیا گیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت کو پندرہ منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔























