ملک کے مختلف حصوں میں 17 جولائی تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون کی تیسری لہر کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے 11 سے 17 جولائی تک صوبے کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں اور بارشوں کی اطلاع دی ہے۔ ترجمان کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیرآباد سمیت کئی شہروں میں بارشیں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، قصور، خوشاب، سرگودھا، بھکر اور میانوالی میں بھی شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
13 سے 17 جولائی کے دوران بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان، ملتان، مظفرگڑھ، خانیوال، لودھراں، راجن پور، رحیم یار خان اور لیہ میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہو سکتی ہیں جبکہ مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی 13 سے 17 جولائی کے دوران آندھی اور بارشیں متوقع ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے 17 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے۔ دیر، سوات، چترال، کوہستان، مالاکنڈ، پشاور، مردان، نوشہرہ، صوابی اور ایبٹ آباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہو سکتی ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 14 سے 17 جولائی کے دوران ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے کا خدشہ ہے، خصوصاً مانسہرہ، ایبٹ آباد، چترال اور کوہستان کے مقامی ندی نالے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے جبکہ ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کو بھی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حساس علاقوں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کنٹرول کے انتظامات کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اتھارٹی نے شہریوں کو ندی نالوں کی صفائی یقینی بنانے، اربن فلڈنگ سے بچاؤ، کسانوں کو فصلیں جلد کاٹ کر محفوظ کرنے اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ژالہ باری یا تیز آندھی کے دوران لوگوں کو محفوظ جگہوں پر منتقل ہونے اور ایمرجنسی کی صورت میں 1700 پر اطلاع دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ مقامی زبانوں میں موسمی الرٹس جاری کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
ادھر پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ بھی جاری کی ہے جس کے مطابق اب تک 39 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بوسیدہ عمارتیں گرنے سے 24 افراد، آسمانی بجلی گرنے سے 3، کرنٹ لگنے سے 4 اور ڈوبنے سے 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح فی الحال زیادہ تر معمول کے مطابق ہے البتہ چشمہ پر درمیانے درجے، کالاباغ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مون سون بارشوں کا یہ سلسلہ 17 جولائی تک جاری رہنے کی توقع ہے۔























